پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

خواجہ آصف 2011 سے کس کی ملازمت کررہے ہیں؟تنخواہ کتنی ہے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 18  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کی درخواست پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کردی۔ تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کی درخواست دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا خواجہ آصف 2011 سے غیر ملکی کمپنی

کے ملازم ہیں اور 50 ہزار درہم ماہانہ تنخواہ بھی لیتے ہیں، جو پاکستانی روپوں میں لاکھوں روپے بنتی ہے ٗخواجہ آصف کمپنی کے لیگل ایڈوائزر بھی رہے جبکہ ان کا ورک پرمنٹ 2019 تک مؤثر ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ خواجہ آصف بطور وزیر کسی غیر ملکی کمپنی میں کام نہیں کرسکتے ٗانہوں نے کاغذات نامزدگی میں خود کو ملازم نہیں بلکہ بزنس مین ظاہر کیا ٗخواجہ آصف نے اپنے مکمل اثاثے ظاہر نہیں کیے اور آمدن چھپائی، یہ معاملہ بھی پاناما کیس جیسا ہے۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے خواجہ آصف کی ملازمت سے متعلق معاہدہ بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ وکیل بھی جب کوئی دوسرا کام کرتا ہے تو وکالت کا لائسنس معطل کر دیا جاتا ہے۔عدلت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جو بعد ازاں سناتے ہوئے اس پر لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔جسٹس عامر فاروق نے لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو بجھوا دیا۔دوسری جانب درخواست گزار تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ ایک وزیر کس طرح غیر ملکی کمپنی کا ملازم ہو سکتا ہے ٗ خواجہ محمد آصف اقامے کی آڑ میں منی لانڈرنگ کرتے رہے ٗآمدن سے زائد اثاثے بنائے، اب وہ ہمیشہ کیلئے پاکستان کی سیاست سے فارغ ہوجائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…