پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا میں ہائیڈرو پاور اور شمسی توانائی کا منفرد منصوبہ

datetime 15  ستمبر‬‮  2017 |

پشاور(این این آئی)پاکستان غربت مٹائو فنڈ( پی پی اے ایف) خیبرپختونخوا میں ہائیڈرو پاور اور قابل تجدید توانائی (ایچ آر ای )پروجیکٹ پر جرمن حکومت کے ترقیاتی بینک (کے ایف ڈبلیو) کے مالی تعاون سے کام کررہا ہے،خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر کی یونین کونسل پاندیڑ کے پہاڑی گاؤں سرقلعہ میں 60 گھر انوں، جن کی مجموعی آبادی تقریباً 895 ہے ، کے لئے کے ایف ڈبلیو کے تعاون سے پی پی اے ایف ایچ آر ای پروجیکٹ

کے تحت 36 کلو واٹ ہائیڈروپاور پروجیکٹ مکمل کرلیا گیا ہے یہ پروجیکٹ دو مراحل پر مشتمل ہے جس کی مجموعی لاگت 22.5 ملین یورو ہے پہلے مرحلے کا آغاز 2013 میں کیا گیا تھا دوسرا مرحلہ بھی تین سال پر مشتمل ہوگا۔جرمن ترقیاتی بینک کے وفد نے پی پی اے ایف کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ ضلع بونیر میں ہائیڈرو پاور اور لکی مروت میں سولر منی گرڈ منصوبہ جات کا افتتاح کیا ہے۔ جرمن ترقیاتی بینک کے ایف ڈبلیو کے ڈویژن ہیڈ آف پیس اینڈ گورننس پروگرام مائیکل گروبر نے خیبرپختونخوا کے دور دراز مقامات پر پی پی اے ایف کے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی بدولت لوگوں کی سماجی و معاشی حالت کے ساتھ علاقے کی ترقی میں بھی بہتری آئے گی انہوں نے ان منصوبوں کو مناسب انداز سے چلانے اور ان کی دیکھ بھال پر زور دیا تاکہ دور رس نتائج کو یقینی بنایا جاسکے۔ ایف ڈبلیو کی پروجیکٹ منیجر ایچ آر ای پروجیکٹ ماجا بوٹ نے بتایاکہ یہ منصوبے انتہائی مشکل اور پہاڑی علاقے میں واقع ہیںجن میں استعمال ہونے والے اعلیٰ معیار کے سامان اور سول ڈھانچے پروجیکٹس کی میعاد بڑھانے میں معاون ہوں گے۔پی پی اے ایف کے سینئر گروپ ہیڈ برائے فنانشل مینجمنٹ اینڈ کارپوریٹ افیئرز/ سیکریٹری عامر نعیم نے جرمن ترقیاتی بینک اور مقامی افراد کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ منصوبے سے علاقے کے لوگوں کی

زندگیوں میں بہتری آئے گی اور غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔پی پی اے ایف کی سینئر گروپ ہیڈ برائے گرانٹس آپریشن سیمی کنول نے صوبے میں قابل تجدید منصوبوں پر جرمن ترقیاتی بینک کے تعاون کو سراہااور کہا کہ پی پی اے ایف تمام سرگرمیوں میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنائے گا ۔ایچ آر ای پروجیکٹ کے تحت خیبرپختونخوا کے چھ اضلاع کی آٹھ یونین کونسلوں میں کام جاری ہے، ان اضلاع میں صوابی، کرک، لکی

مروت، بونیر، دیربالا اور چترال شامل ہیں۔ ایچ آر ای پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے نتیجے میں 20 ہزار سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔ اس پروجیکٹ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بجلی نہ صرف روشنی کے لئے استعمال ہوگی بلکہ اسکے نتیجے میں چھوٹا کاروبارشروع کیا جاسکے گا جس کے باعث لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا اور مقامی مصنوعات کی تیاری میں بہتری آئے گی۔کرک، صوابی اور لکی مروت کے دور دراز مقامات پر اب تک 500 کلو واٹ کی مجموعی صلاحیت کے ساتھ 96 سولر منی گرڈ نصب کئے جانے کا منصوبہ ہے ان علاقوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بدولت نہ صرف روشنی کی بنیادی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ دیہات کی سطح پر کاروباری سرگرمیوں کے لئے بھی توانائی دستیاب ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…