جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

میانمار کی حکومت نے پاکستانی صحافیوں کو دھرلیا،افسوسناک سلوک کا نشانہ بن گئے‎

datetime 10  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی کے مشہور و معروف کرائم جرنلسٹ اقرارالحسن کی میانمار میں پولیس کسٹڈی سے متعلق خبریں گردش میں۔ تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کے کرائم جرنلسٹ اقرار الحسن میانمار کے علاقے رخائن میں پہنچ گئے جہاں وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ صحافتی خدمات ادا کر رہے ہیں جبکہ ان کی دوسری ٹیم کو امیگریشن حکام نے ویزہ ہونے کے باوجود ڈی پورٹ کر دیا ۔

اقرار الحسن اپنی ٹیم کے ہمراہ میانمار میں صحافتی خدمات کی انجام دہی کے لئے نامساعد حالات سے گزرتے ہوئے میانمار حکومت کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کو دنیا کے سامنے لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ دوسری جانب مشہور و معروف ٹی وی اینکرپرسن اقرار الحسن کے بارے میں بری خبر آ گئی۔ تفصیلات کے مطابق اقرارالحسن روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو دنیا کے سامنے لانے کے لئے ان دنوں میانمار گئے ہوئے ہیں اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ جس علاقے میں موجود تھے وہاں حالات کافی کشیدہ ہیں اور مختلف ذرائع نے ان کی جاں بحق ہونے کی خبریں بھی دی ہیں۔ تاہم پاکستان میں ان کے خاندان والوں نے اس خبر پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی بہادر شاہ ظفر کے مزار کے باہر لی گئی تصویر کافی شیئر ہورہی ہے۔ دوسری جانب اقرارالحسن کی ایک تصویر فیس بک پر شیئر ہوئی ہے جس کے ساتھ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ میری زندگی کی سب سے مشکل ڈیوٹی ہے کیونکہ میں گزشتہ تین دن سے سو نہیں سکا اور حالت سفر میں ہوں۔ اس موقع پر اقرارالحسن کے چاہنے والوں نے ان کے لئے نیک خواہشات کے ساتھ ان کی باحفاظت وطن واپسی کی دعا کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…