جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

ڈاکٹر رتھ فاؤ کی تدفین سرکاری اعزازاور قومی پرچم کے ساتھ کراچی کے گورا قبرستان میں کردی گئی

datetime 19  اگست‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)پاکستان میں جذام کے مرض کے خاتمے کے لیے عظیم خدمات انجام دینے والی ڈاکٹر رتھ فاؤ کو مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ گورا قبرستان شاہراہ فیصل میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ پاکستان کی مدر ٹریسا کہلانے والی ڈاکٹر رتھ فاؤ کی تدفین مین صدر مملکت ممنون حسین ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان ، گورنر سندھ محمد زبیر ، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ ، پاک بحریہ کے سربراہ کی نمائندگی وائس ایڈمرل ظفر محمود عباسی ،

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی ایم شیخ ، کور کمانڈر کراچی ، ڈی جی رینجرز ، آئی جی سندھ ، تینوں مسلح افواج کے نمائندوں ، جرمن سفارت خارنے کے حکام ، صوبائی وزراء نثار کھوڑو ، ناصر شاہ ، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں وقار مہدی ، راشد ربانی ، ایم پی اے سعید غنی اور مسیحی برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ تدفین کے موقع پر پاک فوج کے دستے نے انہیں سلامی دی ۔ تدفین کے موقع پر مسیحی برادری کے رہنماؤں نے اپنی مذہبی رسومات کے مطابق انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا ، جس کے بعد مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ڈاکٹر رتھ فاؤ کو سپرد خاک کر دیا گیا ۔ تدفین کے بعد صدر مملکت ممنون حسین ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، گورنر سندھ ، وزیر اعلی سندھ ، ایئر چیف تینوں مسلح افواج کے نمائندوں نے ان کی قبر پر پھول چڑھائے اور انہیں سلامی دی ۔ قبل ازیں آنجہانی ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آخری رسومات سینٹ پیٹرک چرچ میں ادا کی گئی ، جہاں کی ان کی میت کو قومی پرچم میں لپیٹ کر فوجی گاڑی میں چرچ لایا گیا ۔ اس موقع پر تینوں مسلح افواج کے دستوں نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا ۔ آخری رسومات میں گورنر سندھ محمد زبیر ، وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ ، ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار ، ڈاکٹر ادیب رضوی ، میئر کراچی وسیم اختر ، پاکستان میں تعینات جرمن سفیر اور دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی ۔ اس موقع پر سینٹ پیٹرک چرچ میں موجود افراد نے کھڑے ہو کر ڈاکٹر رتھ فاؤ کو خراج عقیدت پیش کیا اور آخری رسومات میں ڈاکٹر رتھ فاؤ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ۔

آخری رسومات سے قبل میری ایڈی لیڈ لیپروسی سینٹر میں ان کے چاہنے والوں نے ان کا آخری دیدار کیا ۔ اس موقع پر آنجہانی ڈاکٹر رتھ فاؤ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے 19 توپوں کی سلامی دی گئی ۔ آخری رسومات اور تدفین کے موقع پر شاہراہ فیصل ، شاہراہ عراق اور صدر کے اطراف شاہراہوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے اور مختلف سڑکوں کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا ۔

اپنے پیغام میں صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ ڈاکٹر رتھ فاؤ نے دکھی انسانیت کے لیے عظیم مثال قائم کی ۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کی قائم ہوئی روایات برقرار رکھی جائیں گی ۔ ڈاکٹر رتھ فا نے 1960 میں پاکستان میں جذام کے خاتمے کے لیے کوششوں کا آغاز کیا، کراچی میں انہوں نے سسٹر بیرنس کے ساتھ میکلوڈ روڈ پر ڈسپنسری سے کوڑھ کے مریضوں کی خدمت شروع کی پھر کچھ عرصے بعد میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر کی بنیاد رکھی، یہ سینٹر 1965 تک اسپتال کی شکل اختیار کر گیا۔

حکومت پاکستان نے1979 میں ڈاکٹر رتھ فا کوجذام کے خاتمے کے لیے وفاقی مشیربنایا اور1988 میں ڈاکٹر رتھ فا کو پاکستان کی شہریت سے نوازا گیا۔ ڈاکٹررتھ فاو کی گراں قدر خدمات پرانہیں ہلال پاکستان، ستارہ قائداعظم، ہلالِ امتیاز، جناح ایوارڈ اورنشان قائداعظم سے نوازا گیا جب کہ ڈاکٹررتھ فا کو جرمن حکومت نے بیم بی ایوارڈ اور آغا خان یونیورسٹی نے ڈاکٹرآف سائنس کا ایوارڈ دیا۔

ڈاکٹررتھ فا ہی کی کوششوں سے پاکستان سے جذام کا خاتمہ ہوا اورعالمی ادارہ صحت نے 1996 میں پاکستان کوجذام پرقابو پانے والا ملک قراردیا جب کہ پاکستان ایشیا کا پہلا ملک تھا جس میں جزام پرقابو پایا گیا۔ ڈاکٹر رتھ ہمیشہ کہتی تھیں جرمنی تو وہ ملک ہے جہاں میں پیدا ہوئی لیکن پاکستان میرے دل کا ملک ہے اور اگر میں مرجاوں تو مجھے یہیں دفن کیا جائے۔ان کی آخری خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں پاکستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر رتھ فاؤ مختصر علالت کے بعد 10 اگست کو انتقال کر گئی تھیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…