بدھ‬‮ ، 22 جولائی‬‮ 2026 

سابق صدر مشرف کو ریٹائرمنٹ پر کتنے روپے ملے اور انہوں نے لندن اور متحدہ عرب امارات میں کتنے کروڑ مالیت کے فلیٹ خریدے؟تہلکہ خیز انکشافات

datetime 13  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) موقر قومی اخبار’دی نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت کی سرکاری رجسٹری کی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے 13 مئی کو لندن میںا یک فلیٹ کی خریداری کے لئے 1.35 ملین پاؤنڈ پاکستانی روپے میں 20 کروڑ روپے ادا کئے جبکہ تقریباً اتنی ہی لاگت کا ایک اور فلیٹ متحدہ عرب امارات میں اسی عرصے کے دوران خریدا گیا جبکہ دوسری جانب آرمی چیف کی

حیثیت سے ریٹائر ہونے پر انہیں ملنے والے مجموعی فوائد کی مالیت بھی دو کروڑ روپے نہیں بنتی۔جنرل مشرف نے جو دستاویزات 2013ءکے انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرائی ہیں اور اخبار روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق ان دوران انہوں نے اپنا کوئی رہائشی، کمرشل پلاٹ یا فارم ہاؤس نہیں بیچا جو انہیں فوج میں نوکری کرتے ہوئے ملا۔ 50 ایکڑ کی زرعی اراضی جو انہیں بہاولپور میں الاٹ ہوئی تھی وہ انہوں نے 2002ءمیں فروخت کردی تھی۔ عدلیہ کی بحالی کے بعد جنرل مشرف اپریل 2009ءمیں پاکستان سے گئے تھے اور اس وقت تک انہوں نے بین الاقوامی سطح پر لیکچر دینے کا آغاز بھی نہیں کیا تھا۔ 13 مئی 2009ءکو انہوں نے ہائیڈ پارک لندن کا جو فلیٹ خریدا اس کی قیمت 1.35 ملین پاؤنڈ ادا کی، الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ان کی دو غیر ملکی غیر منقولہ جائیدادوں کا تذکرہ ہے جن میں ایک 1.28 کیسل ایکڑ، ہائیڈ پارک کریسنٹ لندن اور دوسری 3902 ساؤتھ ریج ٹاور 6 ڈاؤن ٹاؤن دبئی یو اے ای کا فلیٹ ہے، یہ فلیٹ بھی جنرل صاحب نے اسی عرصے کے دوران خریدا تھا اور اس کی قیمت 20 کروڑ پاکستانی روپے تھی۔ لندن کے فلیٹ کی رجسٹر دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ فلیٹ صہبا مشرف کا ہے اور اس کے لئے 13 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ کی ادائیگی کی گئی۔سرکاری دستاویزات بتاتی ہیں کہ قومی احتساب بیورو کے پاس یہ

تمام تفصیلات ہیں لیکن اسے بھی سابق آمر کے خلاف موزوں تحقیقات شروع کرنا باقی ہے۔ پاکستان سے جانے کے چند ہی ماہ بعد تقریباً 40 کروڑ پاکستانی روپوں کے برابر رقم سے لندن اور دبئی میں فلیٹ خریدنے اور وہ بھی ایسے وقت میں کہ جب نہ تو انہوں نے لیکچر دینا شروع کئے تھے اور نہ ہی ابھی انہوں نے اپنا کوئی رہائشی پلاٹ، گھریا تجارتی املاک فروخت کی تھیں، یہ ایسا معاملہ ہے جو تمام تر دستاویزی شہادتوں کے ساتھ

طویل عرصے سے نیب کے سامنے پڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کردہ حقائق کے مطابق جنرل مشرف کو لیکچروں سے ہونے والی آمدن 2010ءمیں شروع ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان کا حل


آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…