ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

انگریز کے بعد کالے سانپ نے ملک میں تسلط قائم کررکھا ہے،یہ کالا سانپ کون ہے؟چیئرمین سینیٹ نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 12  اگست‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی)چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ انگریز کے بعد کالے سانپ نے ملک میں تسلط قائم کررکھا ہے ۔کالے سانپ نے مزدوروں کا استحصال کیا اور حقوق غصب کیے ہیں ۔جمہوریت میں جاگیردار اور وڈیروں کا تسلط بڑھ گیاہے جس کی وجہ سے ہم جیسا غریب الیکشن بھی لڑ نہیں سکتاہے ۔دہشتگردی اور تشدد کی سوچ تعلیمی اداروں میں پرانی روایات کو دوبارہ بحال کرنے سے ختم ہونگی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو گلشن معمار میں پائلر کے زیر اہتمام منعقدہ سندھ لیبر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔میاں رضا ربانی نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہم ایک آزاد قوم اور خود مختار ریاست ہیں لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں مزدور کا بچہ بچہ مقروض ہے ۔انگریزوں کے بعد کالے سانپ نے ملک میں تسلط قائم کررکھا ہے ۔کالے سانپ نے انتہاپسند جماعتوں ،وزیروں اور سرمایہ داروں سے اتحاد کرکے اس تسلط کو برقرار رکھاہے ۔اس کالے سانپ نے مزدورں کا استحصال کیااور حقوق غصب کئے اور اب اس نے بین االاقوامی سامراج سے تعلقات بھی بنالیے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جنرل ضیا کے دور میں سب سے پہلے طلبہ تنظیموں پر پابندی عائدکی گئی ۔آج وہی سوچ طلبہ تنظیموں سے پابندی ہٹانے نہیں دیتی ہے ۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی طلبہ تنظیموں سے پابندی ختم کرنے کے لیے قانو ن کا جائزہ لے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ضیاء الحق کے دور میں مذہبی جماعتوں کو کھلی چھوٹ دی گئی جس کی وجہ سے آج انتہاء پسندی نے جنم لیا ہے ۔تشدد اور دہشتگردی کو روکنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ۔یہ سوچ نیشنل ایکشن پلان یا حکومتی اقدامات کے ذریعے ختم نہیں ہوگی ۔میاں رضا ربانی نے کہا کہ کالے سانپ کا پاکستانی سرمایہ کار اتحادی بناجس نے ٹریڈیونینز کو فسادی قرار دیا اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ٹریڈ یونینز کو بند کردیا گیا۔ٹریڈ یونینز کو بحال کیاجائے اور تمام مزدور دشمن پالیسیاں ختم کی جائیں ۔

آئی آر او کوئی آسمانی صحیفہ نہیں جو اس میں ترمیم نہ کی جائے ۔ٹریڈ رہنما اگر اس میں مناسب ترامیم چاہتے ہیں وہ ہونی چاہئیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں امیروں،غریبوں ،جاگیرداروں،وڈیروں اور عام شہریوں کیلئے مختلف قانون استعمال ہوتاہے ۔یہ نظام جاگیردار وں اور سرمایہ داروں کے مفاد کیلئے بن گیاہے ۔اس ملک میں الیکشن لڑنے کیلئے کروڑوں روپے چاہیے ہوتے ہی جس کی وجہ سے ہم جیسا غریب آدمی الیکشن بھی نہیں لڑسکتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…