جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

جے آئی ٹی 77 ء کے الیکشن کی طرح کیا کرنا چاہتی ہے؟وزیراعظم کے ترجمان نے بڑادعویٰ کردیا

datetime 6  جولائی  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک نے کہا ہے کہ الزام لگانے والے سلطانی گواہ ڈھونڈے کی کوشش کر رہے ہیں ، جس دن جے آئی ٹی بنی ہم نے مٹھائیاں اس لئے بانٹی تھیں کہ ہم انصاف کے متلاشی ہیں ،ہم کسی گھبراہٹ کا شکار نہیں ، سپریم کورٹ سے مودبانہ گزارش ہے کہ جے آئی ٹی کے طریقہ کار کو قانونی دائرہ کار میں لایا جائے ، جے آئی ٹی یا تو کوئی فیصلہ کر چکی ہے یا وہ 77 ء کے الیکشن کی طرح 90 روز کی توسیع چاہتی ہے ۔

جمعرات کو پی آئی ڈی میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے ترجمان نے کہاکہ عمران خان نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک سوال کیا ہے کہ جس دن جے آئی ٹی بنی تھی اس روز مسلم لیگ ن نے مٹھائیاں کیوں بانٹی میں سب کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ جس دن جے آئی ٹی بنی تھی ہم نے مٹھائیاں اس لئے بانٹی تھیں کہ ہم انصاف کے متلاشی ہیں اور چاہتے ہیں کہ انصاف ملے ۔ وزیراعظم نے خود کہا تھاکہ اس معاملے کی تفتیش ہونی چاہئے ۔ اس حوالے سے ایک ریٹائرڈ جج سے بھی رابطہ کیا گیا اور تفتیشی کمیشن بنانے کی بات کی گئی اوروزیراعظم نے سپریم کورٹ کو خط لکھا لیکن عمران خان نے تفتیشی کمیشن بننے کے حوالے سے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو ہم اسلام آباد بند کر دینگے ۔ انہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا تو ہم نے مٹھائیاں بانٹی ۔ انہوں نے کہا کہ جب جے آئی ٹی نے لوگوں پر سلطانی گواہ بننے کیلئے دباؤ ڈالا گیا اور لوگوں کے وٹس ایپ اور ٹوئٹر اکاؤنٹس کی مانیٹرنگ کر کے پیش کئے گئے تو کیا یہ انصاف ہے ؟ جب تصویر لیک کا معاملہ آیا تو کہا گیا کہ ایک نا معلوم ادارے کے نا معلوم شخص نے یہ تصویر لیک کی اور اس کیخلاف نا معلوم کارروائی کی گئی ہے ۔ کیا ہم نے اس کیلئے مٹھائیاں بانٹی تھیں کہ ہمیں ایسا انصاف ملے ؟ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی برطانیہ جا کر ان کاغذات کی تصدیق کیوں نہیں کرتا جو ہم نے اور عمران خان نے عدالت میں پیش کئے ۔

جے آئی ٹی لوگوں کو سلطانی گواہ نہ بننے پر جیلوں میں جانے کی دھمکیاں دے کر کیوں ڈرا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے گلف سٹیلز ملز کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا ہے تو جے آئی ٹی قطر جا کر متعلقہ فرد سے سوالات کیوں نہیں پوچھتی ؟قطری شہزادہ تین خطوط لکھ چکا ہے کہ وہ اپنے خط پر قائم ہیں جے آئی ٹی کے ذہن میں جو سوالات ہیں وہ قطر کے خاندان سے پوچھے کیوں نہیں جاتے ؟

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو تحقیقات کیلئے بلایا گیا ان کو ثبوتوں پر مبنی دستاویزات کیوں نہیں دکھائی گئیں۔جے آئی ٹی یا تو فیصلہ کر چکی ہے یا 60 دن بعد توسیع مانگے گی ۔ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ آج پھر کوئی مسعود محمود بن جائے جس نے سلطانی گواہ بن کر بھٹو کو پھانسی دلوائی تھی ۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی یا تو کوئی فیصلہ کر چکی ہے کہ وہ اپنی مرضی کی چیزیں شامل کر کے کتابچہ تیار کریگی اور اسے پیش کریگی یا پھر وہ وقت میں توسیع چاہتی ہے اگر جے آئی ٹی توسیع چاہتی ہے تو یہ 1977 ء کے الیکشن والی توسیع تو نہیں جو 10-11 سال تک چلی۔

وزیراعظم کے ترجمان نے کہا کہ جے آئی ٹی کے طریقہ کار میں جھول ہے جو وہ اختیار کئے ہوئے ہے ہمیں اس میں سازش کی بو آ رہی ہے میڈیا بھی اس پر آرٹیکل لکھ رہا ہے اگر جے آئی ٹی قطر نہیں جا رہی تو انکے ذہن میں کوئی خاکہ ہے یہ 60 دن کی جے آئی ٹی ہے یا 90 دن والے الیکشن کی ایکسٹینشن ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کے فون ٹیپ کرنے کا ثبوت یہ ہے کہ طارق شفیع سے کہا گیا کہ آپ وزیراعظم ہاؤس جا کر یہ باتیں کرتے ہیں اور انہیں ڈرایا دھمکایا گیا کیا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایک بھائی دوسرے بھائی کے گھر نہیں جا سکتا ؟ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری پہلی جماعت مسلم لیگ ن ہے میں اس سے پہلے کسی سیاسی جماعت میں نہیں رہا صرف نگرانی سیٹ اپ میں موجود تھا ۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ہم کسی گھبراہٹ کے شکار نہیں ہیں ہماری سپریم کورٹ سے مودبانہ گزارش ہے کہ جے آئی ٹی کے طریقہ کار کو قانونی دائرہ کار میں لایا جائے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے بہت سے دوستوں اور قانونی ماہرین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا جائے ۔ مگر وزیراعظم نے کہا کہ میں خود تحقیقات کا کہہ چکا ہوں اور اخلاقی اقدار کا احترام کرینگے ۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور انصاف ہونا چاہئے ہم استنثیٰ بھی نہیں لیں گے ۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ جب ہمیں گارڈ فادر کہا گیا کہ تو پھر بھی لوگوں نے کہا کہ عدالت جائیں مگر وزیراعظم نے منع کر دیا۔ حکومت کے خلاف سازش ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کے ترجمان نے کہا کہ میں سیاست میں نو وارد ہوں سازش کون کر رہا ہے اس کا میڈیا کو پتہ لگانا چاہئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…