جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانیوں کو ویزوں کا اجراء،بحران شدت اختیارکرگیا،کتنی بڑی تعداد میں پاسپورٹ سعودی سفارتخانے میں رکے ہوئے ہیں؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 12  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی ) رمضان المبارک کے دوران عمرہ کی خواہش رکھنے والے پاکستانی مسائل سے دوچار،ویزوں کا بحران جاری، اسلام آباد میں سعودی سفارتخانے میں60ہزار سے زائد پاسپورٹ اسٹمپنگ کے منتظر، نان ریفنڈ ایبل ہوائی ٹکٹوں اور ہوٹلوں کی بکنگ کی مد میں عمرہ کمپنیوں کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگنے کا خدشہ،ٹور آپریٹرز اور زائرین کے درمیان ،تلخ کلامی اور لڑائی جھگڑے معمول بن گئے ،

حکام خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے لگے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں سعودی سفارتخانہ رمضان کے دوران عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے خواہش مند پاکستانیوں کو بروقت ویزوں کے اجرا میں بدستور ناکام ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ویزوں کے بحران میں شدت آ رہی ہے۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سے پاکستانی زائرین کو اسلام آباد سے ویزے جاری نہیں کئے جا سکے جس کے باعث سعودی سفارتخانے میں 60ہزار سے زائد پاکستانیوں کے پاسپورٹ ویزوں کے منتظر ہیں ۔ دوسری جانب پاکستانی ٹور آپریٹرز نے نان ریفنڈ ایبل ہوائی ٹکٹوں اور ہوٹلوں کی بکنگ کی مد میں کروڑوں روپے کی پیشگی ادائیگی کر رکھی ہے ،زائرین کو بروقت ویزے نہ ملنے کی وجہ سے یہ رقم ڈوبنے کا خدشہ ہے ۔جہاں عمرہ زائرین ویزے نہ ملنے کے باعث پریشانی کا شکار ہیں وہیں عمرہ کمپنیوں کے کروڑوں روپے دا پر لگے ہیں۔زائرین اور ٹور آپریٹرز کے درمیان تلخ کلامی اور لڑائی جھگڑے معمول بن چکے ہیں ۔عمرہ آ پریٹرز نے حکومت پاکستان سے بارہا مداخلت کی اپیل کی ہے لیکن حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔پاکستانی حکام اور سعودی سفارت خانے کے طرز عمل کے باعث ٹریول ایجنسیز کو شدید نقصان کا خدشہ ہے ٹریول آپریٹرز کو اس سے پہلے کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔

اسلام آباد، پنجاب اور کے پی کے سے ٹریول ایجنٹس اور عمرہ زائرین نے ایک بار پھر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ، وزارت خارجہ ، وزارت سیاحت اور وزیر مذہبی امور سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور اس سلسلے میں سعودی حکام سے رابطہ کرکے اصلاح احوال کیلئے فوری اقدامات کریں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…