جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانیوں کیلئے زبردست خوشخبری بجلی بحران خاتمے میں اہم ترین سنگ میل

datetime 23  مئی‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) نے تھر انرجی لمیٹڈ (ٹی ای ایل) اور تھل نووا سے کوئلے کی فراہمی کے 2 الگ، الگ معاہدے کر لیے۔کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں کمپنیوں کو 19 لاکھ ٹن سالانہ فی کمپنی کوئلہ فراہم کیا جائے گا۔بیان کے مطابق تھر انرجی لمیٹڈ اور تھل نووا، تھر کول بلاک ٹو میں 330 میگاواٹ کے دو پاور پلانٹس لگانا چاہتی ہیں جو تھر کے کوئلے پر سو فیصد چلنے کی مکمل صلاحیت رکھیں گے،

جبکہ دونوں پلانٹس سے 2020 کے اوائل میں بجلی حاصل ہونا شروع ہوگی۔ان دونوں منصوبوں کی کمیشننگ کے بعد ایس ای سی ایم سی تھر بلاک ٹو سے 76 لاکھ ٹن سالانہ کوئلے کی مائننگ کرے گی، جس سے کوئلے کے نرخوں میں تقریباً 41 اعشاریہ 35 امریکی ڈالر فی ٹن کمی واقع ہوگی جو امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے درآمدی کوئلے کے برابر ہے۔کوئلے کی فراہمی کے معاہدے پر سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) شمس الدین شیخ، حَبکو اور تھر انرجی لمیٹڈ کے سی ای او خالد منصور، تھل نووا کے سی ای او خالد سراج سبحانی اور سی او او رانا ذوالفقار نے دستخط کیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…