بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

غیرقانونی افغان مہاجرین ، حکومت پاکستان کے فیصلے نے تھرتھلی مچادی ،نادراورپولیس کواہم حکم جاری

datetime 11  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) ریاستی و سرحدی امور کی وزارت (سیفران) اور نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغان باشندوں کی دستاویزات بنائی جائیں جو ان افغان باشندوں کے لیے سزا و جزا پالیسی کا حصہ ہے۔اس عمل کیلئے وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد القادر بلوچ اور چیئرمین نادرا عثمان مبین کے درمیان غیر قانونی طور

پر رہائش پذیر افغانیوں کو رجسٹرد کرنے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے۔اس معاہدے کے مطابق 50 سے زائد رجسٹریشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے جہاں غیر قانونی طور پر پاکستان میں بسنے والے افغان باشندوں کا اندراج کیا جائے گا۔ان سینٹرز میں افغان حکومت کی جانب سے اہلکار تعینات کیا جائے گا جو ان کاغذات کے لیے افغان باشندوں کی تصدیق کرے گا۔اس موقع پر وفاقی وزیر سیفران کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ افغان شہریوں کے لیے ایک پیشکش ہے، کیونکہ اگر ان کے پاس دستاویزات ہوں گے تو انہیں پولیس کی جانب سے ہراساں نہیں کیا جائے گا جبکہ ایسے افراد جن کے پاس یہ دستاویزات نہیں ہوں گی تو پولیس کارروائی کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ تقریبًا 10 لاکھ افغان شہری کسی دستاویز کے بغیر پاکستان میں رہ رہے ہیں، جبکہ اس معاملے کو افغان حکومت کے سامنے بھی اٹھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود ان افغان پناہ گزینوں کی دستاویزات کا عمل شروع کرنے سے قبل افغان حکومت کو اعتماد میں لیا جاچکا ہے، یہی وجہ ہے کہ افغان حکومت نادرا کی جانب سے بنائے جانے والے ان سینٹرز کے لیے اہلکار فراہم کرے گی، جو افغان شہریوں کی تصدیق کر سکے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پولیس ایسے لوگوں کا تعاقب کرے گی، جن کے پاس یہ دستاویزات نہیں ہوں گی۔انہوں نے واضح کیا ہے کہ یہ سزا و جزا کی پالیسی ہے ،

اگر افغان باشندے خود کو رجسٹرڈ کرواتے ہیں، تو پولیس ان کو تنگ نہیں کرے گی اگر رجسٹرڈ نہیں کروایا، تو پھر پولیس کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…