بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

رمضان المبارک، نئے قوانین کی منظوری،’’کھانے پینے والوں ‘‘کو بڑا جرمانہ،ٹی وی چینلز پربھی پابندیاں عائد

datetime 10  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی مذہبی امور نے احترام رمضان ترمیمی بل2017 کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔احترام رمضان پر ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کاجرمانہ 5ہزار سے بڑھا کر 25ہزار کر دیا گیا۔ کمیٹی نے رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کی بھی سفارش کر دی کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ وفاقی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے کو ایک سال قید کی سزا ور دو لاکھ جرمانا کیا جائے گا۔

چاند نظر آنے کا اعلان جلدی کرنے کے چکر میں پہلے کر نے والے ٹی وی چینل کو 10 لاکھ جرمانا عائد کرنے اورٹی وی چینل کے لائسنس معطل کی سفارش۔ جمعرات کو قائمہ کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیرمین سنیٹر حافظ حمداللہ کی زیر صدارت یہاں پارلیمنٹ ہاوٗس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی نے غور وخوض کے بعد سنیٹر چوہدری تنویر کے احترام رمضان کے نجی بل2017 کی منظوری دیدی۔قبل ازیں بل پر بحث کے دوران سینیٹر چوہدری تنویر نے کہا کہ حترام رمضان کی خلاف ورزی کرنے والوں کے کئے سخت سزائیں دی جائیں۔قانون میں لچک نہ دیں ورنہ لوگ اسے مزاق بنا لیتے ہیں۔ وزیر مملکت مذہبی امور پیر امین الحسنات نے کہا کہسینما گھروں کو رمضان میں بند ہی رہنا چاہے سینیٹر چوہدری تنویر کا بل ہمیں اپنا ہی بل لگتا ہے۔کمیٹی کی ہوٹلوں پر احترام رمضان کی خلاف ورزی پر 25 ہزار روپے جرمانہ کی اور سینیما گھروں کو ماہ رمضان میں صبح اور افطاری کے بعد 3 گھٹنے بند رکھنے کی تجاویز دیں۔ازیر مملکت نے کہا کہاس پر بہت زیادہ ردعمل ائے گا،۔ملک کے حالات و واقعات سے سب آگاہ ہیں، ۔کوئی حکیمانہ اقدام اٹھایا جائے۔کمیٹی نے احترام رمضان ارڈیننس میں کمیٹی کی تجویز کردہ دو تجاویز منظورکر لیں جن کے تحت رمضان کے دوران کوئی ہوٹل یا رسٹورنٹ خلاف ورزی کرے گا تو اس کو جرمانا 5000 کی جگہ 25000 ہوگا۔

کمیٹی میں رویت ہلال کمیٹی سرکاری اور قانونی طریقہ سے تشکیل دینے کے میکنزم پر غور کیا گیا۔قائمہ کمیٹی کے چیرمین حافظ حمد اللہ نے کہا کہہم چاہتے ہیں کہ ملک میں ہر سال چاند دیکھنے کے مسئلہ کا حل نکالا جائے۔ وزارت مذہبی امور کے حکام نے کہا کہتمام صوبوں سے مشاورت مکمل کرلی ہے۔وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر رویت ہلال کمیٹیوں کی مدت 4 سال رکھنے کی تجویز ہے۔کمیٹی میں ہر صوبے سے دو دو نمائندے شامل کیے جائیں گے۔گلگت بلتستان، وفاقی علاقہ جات اسلام آباد اور ازاد کشمیر سے ایک ایک نمائندہ شامل کیا جائیگا۔ڈی جی سپارکو، ڈی جی موسمیات اور ڈی جی وزارت مذہبی امور مستقل نمائندے ہونگے، ۔کمیٹی کا اجلاس ہر قمری ماہ کے 29 ویں دن چئیرمین طلب کرے گا۔۔

کمیٹی نے رویت ہلال کمیٹی کے اراکین 15 رکھنے کی تجویز دی۔چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی کی تعیناتی 3 سال کی ہونا چاہے، چیرمین کمیٹی حمداللہ نے کہا کہ اگر چاند نظر آنے کا اعلان جلدی کے چکر میں پہلے کرے گا اسکو ٹی وہ چینل کو 10 لاکھ جرمانا ہو گا۔ کمیٹی کی سفارشاٹ کے تحت وفاقی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے کو چھ ماہ تک قید کی سزا یا 50 ہزار تک جرمانا یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ٹی وی چینل کے لائسنس کی معطلی بھی چاند پہلے دکھانے کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ ۔کسی نجی رویت ہلال کمیٹی فر د یا افراد کو چاند دیکھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔۔ بل۔خلاف ورزی کرنے والے کو ایک سال سزا یا دو لاکھ جرمانا کیا جائے گا۔ بل۔چیئیرمین کمیٹی نے سزا کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کی سفارش کی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…