بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

جب کوئی بھی حملہ کامیاب ہوجاتاتواس کے بدلے میں کیاکچھ ملتاتھا؟،آرمی پبلک سکول پرحملے کابہت افسوس ہے،احسان اللہ احسان کے مزیدتہلکہ خیزانکشافات سامنے آگئے

datetime 27  اپریل‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے پاک فوج کوگرفتار ی دینے کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کے مختلف واقعات اوردھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے ساتھ ساتھ خوفناک انکشافات کئے ہیں ۔ایک نجی ٹی وی کوانٹرویودیتے ہوئے احسان اللہ احسان نے بتایاکہ کالعدم تحریک طالبان کے پاس اس وقت کم ازکم 50خود کُش حملہ آور موجود ہیں جوکسی بھی وقت استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

احسان اللہ احسان نے بتایاکہ تحریک طالبان کی اعلی قیادت خود تومحفوظ پناہ گاہوں میں رہتی ہے اورعام لوگوں کوبھٹکاکرخودکش بمباربناکرتباہی کے منصوبے بنائے جاتے ہیں ۔ احسان اللہ احسان نے مزیدبتایا کہ جب کسی جگہ حملہ ہو جاتا ہے تو انعامی رقم وصول کی جاتی ہےاورانعامی رقم کی وصولی کے مختلف طریقے ہیں ۔انہوں نے تسلیم کیا کہ آرمی پبلک سکول پر کئے جانے والے حملے پر مجھے بے حد افسوس ہے کہ اس وحشیانہ حملے میں معصوم بچوں کو مارا گیا۔انہوں نے بتایاکہ جب سوات میں ملالہ یوسف زئی پرحملہ کیاگیاتومجھے اس وقت بہت زیادہ دبائوکاسامناکرناپڑااوریہ دبائوملافضل اللہ کاتھا۔ جبکہ پاکستانی ترجمان دفترخارجہ نےکہاہےکہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کا اعتراف اورسابق طالبان ترجمان احسان اللہ کےانکشافات نے بھارت کو بے نقاب کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان میں دہشتگردی میں بھارت بطور ریاست ملوث ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کاکہناتھاکہ احسان اللہ احسان نے پاکستانی فورسز کے سامنے سرنڈر کیا۔انہوں  نے کہاکہ بتایا گیا ہے کہ جماعت الاحرار کو بھارت اور افغانستان سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہاکہ خالد خراسانی کے بھارت میں علاج کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔دفترخارجہ کےترجمان نے واضح کیاکہ بھارت افغانستان  کی پاکستان میں کا معاملہ تمام عالمی فورمز پر اٹھایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…