جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

حسین حقانی کو ویزے جاری کرنے کا اختیار کس پاکستانی اہم ترین شخصیت نے دیا تھا؟

datetime 24  مارچ‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کی جانب سے کیے گئے دعوے کے 2 دن بعد سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور حکومت میں وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ایک دستاویز سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ امریکا میں تعینات پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو 2010 میں وزارت داخلہ نے امریکیوں کو مطلوبہ دستاویزات کے بغیر سفارتی ویزے جاری کرنے کا

ختیار دیا۔وزیر اعظم کی پرنسپل سیکریٹری نرگس سیٹھی کے دستخط سے جاری کئے گئے خط سے پتہ چلتا ہے کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی امریکیوں کی جانب سے ویزا حاصل کرنے کے لیے درخواست پاکستان کے متعلقہ افسران کو دینے کے بجائے پاکستانی سفیر کی جانب سے فوری طور پر ایک سال کی مدت کے لیے ویزا جاری کرنے کے اختیارات سے مطمئن تھے۔خط کے مطابق واشنگٹن کے سفارت خانے نے وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد کی مرضی سے امریکیوں کو ویزا جاری کیے۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری خط میں 14 جولائی کی تاریخ درج ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ مسٹر عزیز نامی شخص نے غلطی سے تاریخ درج کی۔خیال رہے کہ سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے ترجمان پہلے ہی اس بات سے انکار کرچکے ہیں کہ وزارت داخلہ نے اس وقت اس طرح کا کوئی خط جاری کیا تھا۔جاری خط سے پتہ چلتا ہے کہ ’واشنگٹن میں تعینات پاکستانی سفیر کو پاکستان کا سفر کرنے والے ان امریکی سرکاری سیاحوں کو عارضی ویزا جاری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جنہیں امریکی حکومت نے تحریری طور پر سفر کرنے کی اجازت دی ہے یا جن کی درخواستیں مکمل ہوں اور ان کی جانب سے واضح طور بتایاگیا ہو کہ وہ پاکستان کا سفر کیوں اور کس مقصد کے لیے کرنا چاہتے ہیں‘۔وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے سینیٹ کو بتایا کہ پالیسی

کی تبدیلی کے باعث زیادہ تعداد میں ویزے جاری کیے گئے اور محض 6 ماہ میں 2 ہزار 487 امریکیوں کو سفارتی ویزے جاری ہوئے۔تاہم انہوں نے بہت سارے سوالات کے جواب نہیں دئیے، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ پالیسی کو کس نے کب تبدیل کیا تھا، اور نہ ہی انہوں نے یہ ذکر کیا کہ یہ سب کس نے کیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…