جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

شہبازشریف رُوپڑے

datetime 15  مارچ‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف ’’خادم پنجاب زیور تعلیم پروگرام‘‘ کے اجراء کے حوالے سے ایوان اقبال میں منعقدہ تقریب کے دوران انتہائی جذباتی دکھائی دیئے اور اپنی تقریر کے آغاز میں قوم کی عظیم بیٹیوں کے خاندانوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے اور تقریر کے دوران ان کی آواز بھر آئی۔ وزیراعلیٰ نے اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والی طالبہ بشریٰ کو خدمت کارڈ دیتے ہوئے پوچھا کہ اس کے والد کیا

کرتے ہیں جس پر اس نے بتایا کہ میرے والد اس دنیا میں نہیں اور ہم تین بہنیں ہیں اور بڑی مشکل سے گزارہ ہوتا ہے جس پر وزیراعلیٰ نے بشریٰ کو سٹیج پر بلا کر اپنے ساتھ صوبائی وزیرسکولز ایجوکیشن رانا مشہود احمد کی نشست پر بٹھایا اور اس کے سر پر پیار دیا، بشریٰ تقریب کے اختتام تک وزیراعلیٰ کے ساتھ نشست پر موجود رہیں۔ وزیراعلیٰ نے خدمت کارڈ کے ذریعے تعلیمی وظیفہ حاصل کرنے والی اوکاڑہ کی طالبہ حیا بتول اور دیگر طالبات کے سر پر پیار دیا اور ان کی ہمت اور عزم کی داد دی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قوم کی عظیم بیٹیوں حیا بتول اور بشریٰ نے اپنے حالات کاذکر کیا ہے کہ کس طرح ان کے خاندان زندگی کے بے رحم تھپیڑوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں نے جن بیٹیوں کو خدمت کارڈ دیئے ہیں، میں نے ان سے پوچھا ہے کہ ان کے والد کیا کرتے ہیں۔ اکثر کے والد محنت کش ہیں اور عزت کے ساتھ روزگار کماتے ہیں لیکن کم وسیلہ ہونے کے باوجود وہ عظیم پاکستانی ہیں کیونکہ انہوں نے کبھی کسی کا حق نہیں مارا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ایک انتہائی قابل احترام خاتون اور ایک صاحب نے مجھے مشورہ دیا کہ بچیوں کو تعلیمی وظائف نہ دیئے جائیں کیونکہ اس سے انرولمنٹ نہیں بڑھے گی۔ میں نے ان سے پوچھا آپ کے کتنے بچے ہیں اور وہ کار میں سکول جاتے ہیں یا بس میں؟ جس پر انہوں نے کہا کہ ہمارے بچے کار میں سکول جاتے ہیں۔

میں نے پوچھا آپ کے بچے محل میں رہتے ہیں یا کچے گھر میں؟ جس پر انہو ں نے کہا کہ محل تو نہیں لیکن اچھے گھر میں رہتے ہیں۔ میں نے پوچھا آپ کے بچے اپنا کام خود کرتے ہیں یاملازم؟ جس پر انہو ں نے کہا کہ ملازم کرتے ہیں۔ اس پر میں نے کہا کہ قوم کی عظیم بیٹیوں کے تعلیمی اخراجات کیلئے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں کیونکہ اشرافیہ کے بچوں کو علم نہیں کہ عام آدمی کے بچے کس طرح گزربسر کرتے ہیں، ان کیلئے تو سکول یونیفارم، جوتے، جرابیں اور دیگر ضروریات پوری کرنا بھی ایک چیلنج ہوتا ہے۔

میں نے کہا کہ آپ اپنی دولت سے ان بچیوں کیلئے گاڑیاں نہیں تو موٹر بائیکس ہی لے دیں۔ میں تعلیمی وظائف کیلئے 6 ارب روپے نہیں دیتا اور اس سے کوئی کینسر ہسپتال بنا دیتا ہوں جس پر وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر کے دوران اشرافیہ کی لوٹ مار پر سخت تنقید کی اور پاکستان کے مسائل کا ذمہ دار قرار دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم اپنی تقدیر کے خود مالک ہیں اور انشاء اللہ پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…