اسلام آباد (نیوز ڈیسک)دنیا بھر میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے،
جبکہ پھیپھڑوں کا کینسر اب بھی سب سے زیادہ تشخیص ہونے والی اقسام میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ گزشتہ برسوں میں اس بیماری سے اموات کی شرح میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن کم عمر افراد میں کینسر کے کیسز میں اضافہ طبی ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔تحقیقی اعداد و شمار کے مطابق 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر کی بعض اقسام کا خطرہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی دو نئی تحقیقی رپورٹس میں اس رجحان کی ایک اہم وجہ ناقص نیند کو قرار دیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق گزشتہ 30 برسوں کے دوران نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد میں کینسر کی تشخیص کی شرح میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 1990 میں اس عمر کے افراد میں کینسر کے مریضوں کی تعداد 18 لاکھ تھی، جو 2019 تک بڑھ کر 32 لاکھ 60 ہزار سے تجاوز کر گئی، جبکہ اموات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔امریکا کے ایم ڈی اینڈرسن کینسر سینٹر کی جانب سے کی گئی تحقیق میں 18 سے 50 سال کی عمر کے ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن افراد کی نیند کا معیار خراب ہوتا ہے، ان میں آنتوں، بریسٹ اور دیگر اقسام کے کینسر کا خطرہ تین گنا تک بڑھ سکتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ناقص نیند اور کینسر کے درمیان تعلق کے مزید شواہد درکار ہیں، تاہم موجودہ نتائج اس حوالے سے ایک مضبوط اشارہ فراہم کرتے ہیں۔
ان کے مطابق نوجوانوں میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز عالمی صحت کے شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ غیر صحت بخش خوراک، موٹاپا اور طرزِ زندگی کی تبدیلیاں بھی کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرات میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ خاص طور پر پراسیسڈ اور الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کے زیادہ استعمال کو معدے اور آنتوں کے کینسر سے جوڑا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات، بیکری مصنوعات، انسٹنٹ نوڈلز اور دیگر پراسیسڈ غذاؤں میں نمک، چینی اور مصنوعی اجزا کی زیادہ مقدار صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مختلف مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ایسی غذاؤں کا زیادہ استعمال آنتوں کے کینسر سمیت کئی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے کینسر سمیت متعدد سنگین بیماریوں کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔



















































