اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

ہائیکورٹ ملتان کے جج جسٹس قاسم نے روتے ہوئے ایسا کیا کہاکہ عدالت میں موجود ہر شخص درود شریف پڑھنے لگا؟

datetime 14  مارچ‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ملتان (مانیٹرنگ ڈیسک) ہائیکورٹ ملتان بینچ کے جج جسٹس محمد قاسم خان نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے خلاف کارروائی کی درخواست پر ایف آئی اے ملتان کو مقدمہ درج کر کے 20 مارچ کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔ فاضل جج سماعت کے دوران بار بار آبدیدہ ہوئے اور ریمارکس دئیے کہ توہین رسالت کسی مسلما ن تو کیا کسی پاکستانی کا بھی ایجنڈا نہیں ہوسکتا ۔ اس ملک میں تمام مذاہب کے افراد ایک دوسرے کی

قوت بن کرزندگی گزار رہے ہیں ،سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد غیرملکی مفادات کا کھیل ہے ۔فاضل عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں بعض اداروں کے ذمہ داروں نے غفلت کا مظاہرہ کیا ، اگر نفرت آمیز رویوں کو آزادی کا نام دیا جاتا ہے تو یہ نہ تو آزادی ہے اورنہ ہی اس کو کلچر کہا جا سکتا ہے ، اس خطے کے رہنے والوں کا کلچر سرکار دو عالمؐ کی تعظیم ہے ۔فاضل عدالت نے قرار دیا کہ اس نفرت آمیز کارروائی پر فوری ایکشن لیا جائے ، ایکشن نہ لینے والے عناصر غفلت کی ذمہ داری قبول کریں اور ایسے افراد کو ادار ے سزا دیں ۔ فاضل عدالت نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ اسلام آباد سے مکمل رپورٹ حاصل کرنے کے ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹس کے بعد بننے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی پیش رفت کی مکمل تفصیلات بھی حاصل کی جائیں اورغفلت کے ذمہ داروں کا تعین کیاجائے ، عدالت نے حکم دیا کہ ضروری دستاویزات حاصل کرکے مقدمے کا چالان جلد از جلد عدالت بھجوایا جائے ۔ اس موقع پر عدالت میں وکلاء اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور نبی کریمؐ کے ذکر پر عدالت میں بار بار درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی رہیں ۔ یاد رہے کہ فاضل عدالت میں ملتان کے محمد ایوب نے درخواست دائر کی تھی کہ فیس بک پر گستاخانہ مواد کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ، اس لئے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے ساتھ سخت کارروائی عمل میں

لائی جائے ۔ فاضل عدالت کے حکم پر ایک گھنٹہ کے لئے مقدمہ کی سماعت ملتوی کر کے ایف آئی اے حکام کو طلب کیا گیا، جس پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ممتاز ڈوگر پیش ہوئے ۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…