پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

’’توہین رسالت معاملے میں فیس بک بند کرنے کا فیصلہ ‘‘

datetime 13  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کوئی دو رائے نہیں کہ حرمت رسول ﷺ پر ہماری جان بھی قربان ۔ آقا کریم ﷺ کی عزت و حرمت پر کوئی بات کرے ہمیں بالکل گوارا نہیں ۔ پورا پاکستان اس معاملے پر یکجا ہے ۔ اس حوالے سے جسٹس شوکت عزیز کے اقدامات کو بے حد سراہا جا رہا ہے ۔ نجی ٹی وی چینل پر ڈاکٹر شاہد مسعود کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ توہین رسالت پر ایک لمبے عرصے بعد اچانک معاملہ اٹھایا جانا ایک اشارہ ہے ۔

انہوں نےکہا کہ اس معاملے میں کچھ سوالات بھی جنم لیتے ہیں کہ حکومت اتنا عرصہ خاموش کیوں رہی ؟ آخر اس کے پیچھے وجہ کیا تھی ؟ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ حکومت نے توہین رسالتﷺ کے مرتکب پیجز کو بند کرنے کی آڑ میں سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ توہین رسالتﷺ کا معاملہ اٹھایا گیا تو حکومت نے خود اس معاملے کو خاموشی سے جانے دیا جبکہ حکومتی وزرا نے بھی اس پر کوئی بیان نہیں دیا۔بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایکشن لیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی کے ڈھائی سے تین کروڑ افراد فیس بُک استعمال کر رہے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ سوشل میڈیا بین کرنےکی آڑ میں حکومت کا اپنا مفاد ہے ۔ توہین آمیز فیس بک پیجز خود بنائے گئے اور انہیں خاموشی سے چلنے دیا گیا ۔پھر ایک لائحہ عمل کے فیس بک بند کرنے کے خلاف معاشرے میں ایک ہیجان برپا کیا گیا تاکہ فیس بک جو اس وقت خبر رسانی کا سب سے تیز ترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے اسے پاکستان میں بلاک کیا جائے جس سے حکمران طبقے کا کچا چٹھا کھل کر عوام کے سامنے نہ آنے پائے ۔ شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ اس بات کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہو توہین رسالت کے پیجز چلتے رہے مگر حکومتی کسی ایک وزیر کا بیان بھی سامنے نہیں آیا ۔ کوئی ایک لفظ تک نہ بولا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…