پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

تمام درگاہیں بند کرنے کا اعلان

datetime 18  فروری‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی)محکمہ اوقاف سندھ نے سیکورٹی فراہم نہ کئے جانے تک صوبے بھر کی درگاہیں بند رکھنے کا اعلان کر دیا دوسری جانب درگاہوں کی بندش کے خلاف سنی تحریک نے شہر کے مختلف علاقوں میں دھرنا دینے کی دھمکی دیدی ۔ تفصیلات کے مطابق سہیون میں درگاہ سید عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر پر جمعرات کے روز دھماکے کے بعد سندھ بھر میں محکمہ اوقاف کے زیر انتظام 80 درگاہوں کو سیل

کردیا گیا تھا جس کے خلاف ملک بھر کی شیعہ اور سنی تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے درگاہوں کو فوری کھولنے کا مطالبہ کیا اس پر کراچی کی معروف درگاہ سید عبداللہ شاہ غازی کو گذشتہ روز بعد نماز جمعہ کھول دیا گیا تھا یہاں ڈی آئی جی ساؤتھ آذاد خان کی نگرانی میں پولیس نے رینجرز کے تعاون سے فول پروف سیکورٹی انتظامات مکمل کر لئے درگاہ کی پارکنگ میں گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے اور آنے والے زائرین کی تلاشی تین مراحل میں لی جارہی ہے یہاں ہونے والے انتظامات کی نگرانی رینجرزاور پولیس کے علاقائی افسران کر رہے ہیں زائرین نے یہاں ہونے والے انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ شہر قائد کی دیگر 27 درگاہیں سیل ہیں ان میں درگاہ سید قطب عالم شاہ بخاری (جامع کلاتھ) سید مستان شاہ (لائٹ ہاؤس) میراں پیر (لی مارکیٹ) سخی جمیل شاہ داتار (بارہ امام) سید غائب شاہ (کیماڑی) سید یوسف شاہ (منوڑا) سید مصری شاہ (ڈیفنس) سید نوری شاہ بابا (تین ہٹی) سید سخی سلطان (کینٹ ) سید دولہا شاہ بخاری (کھارادر) چھئن شاہ (کھارادر) نور احمد بخاری (کھارادر) پیر زندہ شاہ مدار (اکبر روڈ) شامل ہیں سہون شریف سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ہفتہ کے روز زائرین کے اصرار پر درگاہ لعل شہباز قلندر کو سخت حفاطتی انتظات کے بعد زائرین کیلئے کھول دیا گیا یہاں آنے والے زائرین وجدانہ عالم میں دھمال ڈال کر اپنی

عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں یہاں ہر طرف اہ بکا کا عالم دیکھائی دیتا ہے محکمہ اوقاف سندھ کے چیف ایڈمنسٹریٹر مشتاق سومرو نے کہا ہے کہ درگاہوں کی سیکورٹی تک کسی مزار کو نہیں کھولا جا سلتا جبکہ سیکورٹی رینجرز کے حوالے کرنے کیلئے محکمہ داخلہ کو مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے آئی جی سندھ سے بھی خط کے ذریعے استدعاکی گئی ہے کہ درگاہوں پر پولیس نفری بڑھائی جائے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اوفاف

کے زیر کنٹرول مزارات کی سیکورٹی کے حوالے سے محکمہ داخلہ سندھ کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے کہ مزارات کے تحفظ کیلئے سیکورٹی انتظامات کئے جائیں متعلقہ تھانوں کو پابند کیا جائے کہ مزارات پر پو لیس کی نفری بڑھائی جائے پولیس ہی واک تھرو گیٹ نصب کرے انہوں نے کہا کہ محکمہ داخلہ سے کہا گیا ہے کہ مزارات کی سیکورٹی رینجرز کے حوالے کی جائے انہوں نے کہا کہ محکمہ اوقاف کے خادمین صرف صفائی

ستھرائی اور زائرین کی رہنمائی کیلئے متعین ہیں ان کے پاس صرف ایک ڈنڈا یا جھاڑوہوتا ہے اس سے وہ دہشت گردی کامقابلہ نہیں کر سکتے انہوں نے کہا کہ اس سانحہ میں درگاہ لعل شہباز قلندر کے اندر ڈیوٹی پر مامور اوقاف کے پانچ خادمین شدید زخمی ہوئے محکمہ کی جانب سے ان کا علاج کرایا جا رہا ہے دوسری جانب سنی تحریک کے ترجمان فہیم شیخ نے بتایاکہ محکمہ اوقاف کی جانب سے درگاہیں بند رکھنے کے اعلان

کی مذمت کرتے ہوئے درگاہوں کو فول پروف سیکورٹی دیکر انہیں فوری طور پر کھالنے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ اگر درگاہیں بند رہیں تو سنی تحریک شہر بھر میں دھرنے دے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…