بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

افغانستان سے پاکستان پر حملے ملکی سالمیت پر حملے ہیں ،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا غضبناک،اصل کمزوری سامنے لے آئے

datetime 18  فروری‬‮  2017 |

پشاور (آئی این پی)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے افغانستان سے پاکستان پر حملوں کو ملکی سالمیت پر حملے قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دہشتگردوں کی مالی امداد کو روکنا ہو گا ، آپریشن ضرب عضب سے کافی تبدیلی ممکن ہوئی مگر ہماری بارڈر مینجمنٹ کمزور تھی،وزیر اعلیٰ پنجاب کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ پنجاب میں بھی پولیس کا ایسا نظام بنا کر دکھائیں ، ہم پنجاب سے سستی میٹرو بنا کر

دکھائیں گے ، دوسرا چیلنج کہ شہباز شریف اپنے صوبے کے تمام ہسپتالوں میں سو فیصد ڈاکٹرز دکھا دے میں اپنے صوبے میں دکھا سکتا ہوں، عمران خان نے کبھی کسی کی بھی سفارش نہیں کی‘ کے پی کے میں کوئی شریف آدمی احتساب کمشنر لگنا نہیں چاہتا ‘ وہ لگنا چاہتا ہے جو کسی کو خوش کرے ‘ یہاں کسی میں ہمت نہیں ہے کہ وہ سچا فیصلہ کرے ‘ عمران خان جیسا آدمی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ‘ اس نے کبھی میری حکومت میں مداخلت نہیں کی ‘ انتظامی امور میں بھی کوئی مداخلت نہیں کی ‘ میں ڈمی وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتا اور نہ ہی کبھی زندگی میں میں نے کسی کی غلامی کی ہے۔ وہ ہفتہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان سے پاکستان پر حملے ملکی سالمیت پر حملے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں مذہبی شدت پسندی موجود نہیں۔ دہشت گردی کو روکنے کے لئے ان کی مالی امداد کو روکنا ہو گا۔ پرویز خٹک نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب سے کافی تبدیلی ممکن ہوئی مگر ہماری بارڈر مینجمنٹ کمزور تھی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بہت سے منصوبے لگائے جا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا پولیس کسی ایک بندے کی غلامی نہیں رہی ہے۔ ہمارے صوبے میں پولیس کو مکمل طور پر آزاد کر دیا گیا ۔ میر ے کہنے پر کبھی کسی ایک سپاہی کا تبادلہ بھی نہیں کیا گیا۔ میں نے پولیس کو خبردار کر دیا تھا کہ تھانے میں رشوت ‘ بے ایمانی اور مار پیٹ نہیں

مانوں گا ‘ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں نے عمران خان جیسا آدمی نہیں دیکھا اس نے کبھی خیبر پختونخوا میں کسی کی سفارش نہیں کی اور نہ ہی کبھی میرے معاملات میں مداخلت کی ہے۔ میں ڈمی وزیر اعلیٰ نہیں ہوں میں اپنے تمام انتظامی معاملات میں بھی آزاد ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ پنجاب میں بھی پولیس کا ایسا نظام بنا کر دکھائیں۔ ہم پنجاب سے سستی میٹرو بنا

کر دکھائیں گے۔ دوسرا چیلنج کرتا ہوں شہباز شریف کو کہ وہ اپنے صوبے کے تمام ہسپتالوں میں سو فیصد ڈاکٹرز دکھا دے میں اپنے صوبے میں دکھا سکتا ہوں۔ میں نے ڈاکٹرز کی تنخواہیں بھی بڑھائی ہیں۔ ہمارے سکولوں میں بھی سو فیصد ٹیچرز ہیں اور پہاڑی علاقوں میں دور دراز تک انفراسٹرکچر پہنچایا جا رہا ہے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ کے پی میں سب سے بہتر انڈسٹریل سہولیات دی جا رہی ہیں۔ ہم کے پی کے 7 اضلاع

میں میٹرو ٹرین بنائیں گے اور اس کے لئے کوئی قرضہ بھی نہیں لیں گے۔ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو اپنے تمام کاموں میں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ میر امقابلہ کر کے دکھا دیں۔ احتسااب کمیشن میں ڈی جی کو میں تعینات نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ میری وفاق کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے۔ اپنے صوبے کا حق میں وفاق سے پورا وصول کرتا ہوں۔ وفاق ہمارے قانونی حق میں رکاوٹ نہیں ڈال رہا۔ ایک سوال کے جواب میں پرویز خٹک نے کہاکہ

واپڈا وفاق کا ادارہ ہے اور اس کے تمام معاملات کا ذمہ دار بھی وفاق ہے یا واپڈا کے افسران ۔ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چور وفاق کے لوگ ہوں گے ہم اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔ ۔۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…