جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

فوجی عدالتوں کی مخالفت،حکومت نے اہم فیصلہ کرلیا

datetime 18  جنوری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (آئی این پی) فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کیلئے ترمیم کی مخالف اپوزیشن جماعتوں سے انفرادی رابطوں کا فیصلہ کرلیا گیا ‘ پہلے مرحلے میں بات چیت کے لئے بلواسطہ طورپر پیغامات بھجوائے جائیں گے اور یہ پیغامات چیدہ چیدہ اپوزیشن جماعتوں کی قیاددت کو ترمیم پر نرم موقف رکھنے والوں کے ذریعے بھجوائے جائیں گے‘ بات چیت پر آمادگی کا عندیہ ملنے پر ان جماعتوں کی قیادت سے براہ راست رابطوں کا دعویٰ کیا گیا ‘ اس کا انحصار پیغامات کے جوابی ردعمل پر ہوگا۔ ذرائع دعویٰ کررہے ہیں ۔تیسرے پارلیمانی اجلاس کو ناکام ہونے سے بچانے اور اپوزیشن کو آمادہ کرنے کے لئے نئی کوششوں کا آغاز ہوگیا اور فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لئے بعض پس پردہ قوتوں کے سرگرم ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ۔

ترمیم کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کو اس ترمیم پر آمادہ کرنے کے لئے اس ترمیم کی دوبارہ منظوری کی کوششوں کے پس منظر سے آگاہ کیا جائے گا۔ حمایت کے حصول کے لئے حکومتی بندوبست کے تحت ان جماعتوں کو انفرادی طور پر اعتماد میں لیا جائے گا۔ ذرائع دعویٰ کررہے ہیں کہ ان جماعتوں کو ترمیم پر آمادہ کرنے کے لئے تمام ممکنہ کوششوں اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لانے کا امکان ہے۔ اس ضمن میں رواں ہفتے ان سرگرمیوں کا آغاز بھی متوقع ہے۔ یاد رہے کہ فوجی عدالتوں کی ترمیم بھی پارلیمانی قائدین کا تیسرا مشاورتی اجلاس 31جنوری کو ہوگا۔ حکومت سے مدارس اصلاحات‘ فرقہ وارانہ کالعدم تنظیموں‘ انصاف کے نظام کو بہتر بنانے‘ انتہا پسندی و عسکریت پسندی اور غیر ریاستی عناصر کے خلاف نئے بیانیہ کی تیاری کے بارے میں حکومتی کارکردگی اس اہم تیسرے اجلاس میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں سے باقاعدہ طور پر آگاہ کرنے کے لئے پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس طلب اور اس میں سکیورٹی اداروں کی بریفنگ کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

شراکت داروں کے درمیان اپوزیشن کے ان مطالبات پر مشاورت کے لئے آئندہ ہفتے اعلیٰ سطح کے اجلاس کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ حکومت نے اکتیس جنوری کے پارلیمانی قائدین کے اجلاس میں بھرپور طور پر شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی شرکت بھی متوقع ہے۔ فی الحال انفرادی طور پر ان جماعتوں سے رابطوں کا ٹاسک دے دیا گیا ۔ سخت گیر موقف کی حامل جماعتوں کو دوبارہ ترمیم لائے جانے کی وجوہ سے آگاہ کیا جائے گا۔ یہ بھی خیال رہے کہ فوجی عدالتوں کی ترمیم پر حکومت کو اتحادی جماعتوں کی بھی حمایت حاصل نہیں ہے ان جماعتوں کی طرف سے اس معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…