پیر‬‮ ، 27 جولائی‬‮ 2026 

فوجی عدالتوں کی مخالفت،حکومت نے اہم فیصلہ کرلیا

datetime 18  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کیلئے ترمیم کی مخالف اپوزیشن جماعتوں سے انفرادی رابطوں کا فیصلہ کرلیا گیا ‘ پہلے مرحلے میں بات چیت کے لئے بلواسطہ طورپر پیغامات بھجوائے جائیں گے اور یہ پیغامات چیدہ چیدہ اپوزیشن جماعتوں کی قیاددت کو ترمیم پر نرم موقف رکھنے والوں کے ذریعے بھجوائے جائیں گے‘ بات چیت پر آمادگی کا عندیہ ملنے پر ان جماعتوں کی قیادت سے براہ راست رابطوں کا دعویٰ کیا گیا ‘ اس کا انحصار پیغامات کے جوابی ردعمل پر ہوگا۔ ذرائع دعویٰ کررہے ہیں ۔تیسرے پارلیمانی اجلاس کو ناکام ہونے سے بچانے اور اپوزیشن کو آمادہ کرنے کے لئے نئی کوششوں کا آغاز ہوگیا اور فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لئے بعض پس پردہ قوتوں کے سرگرم ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ۔

ترمیم کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کو اس ترمیم پر آمادہ کرنے کے لئے اس ترمیم کی دوبارہ منظوری کی کوششوں کے پس منظر سے آگاہ کیا جائے گا۔ حمایت کے حصول کے لئے حکومتی بندوبست کے تحت ان جماعتوں کو انفرادی طور پر اعتماد میں لیا جائے گا۔ ذرائع دعویٰ کررہے ہیں کہ ان جماعتوں کو ترمیم پر آمادہ کرنے کے لئے تمام ممکنہ کوششوں اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لانے کا امکان ہے۔ اس ضمن میں رواں ہفتے ان سرگرمیوں کا آغاز بھی متوقع ہے۔ یاد رہے کہ فوجی عدالتوں کی ترمیم بھی پارلیمانی قائدین کا تیسرا مشاورتی اجلاس 31جنوری کو ہوگا۔ حکومت سے مدارس اصلاحات‘ فرقہ وارانہ کالعدم تنظیموں‘ انصاف کے نظام کو بہتر بنانے‘ انتہا پسندی و عسکریت پسندی اور غیر ریاستی عناصر کے خلاف نئے بیانیہ کی تیاری کے بارے میں حکومتی کارکردگی اس اہم تیسرے اجلاس میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں سے باقاعدہ طور پر آگاہ کرنے کے لئے پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس طلب اور اس میں سکیورٹی اداروں کی بریفنگ کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

شراکت داروں کے درمیان اپوزیشن کے ان مطالبات پر مشاورت کے لئے آئندہ ہفتے اعلیٰ سطح کے اجلاس کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ حکومت نے اکتیس جنوری کے پارلیمانی قائدین کے اجلاس میں بھرپور طور پر شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی شرکت بھی متوقع ہے۔ فی الحال انفرادی طور پر ان جماعتوں سے رابطوں کا ٹاسک دے دیا گیا ۔ سخت گیر موقف کی حامل جماعتوں کو دوبارہ ترمیم لائے جانے کی وجوہ سے آگاہ کیا جائے گا۔ یہ بھی خیال رہے کہ فوجی عدالتوں کی ترمیم پر حکومت کو اتحادی جماعتوں کی بھی حمایت حاصل نہیں ہے ان جماعتوں کی طرف سے اس معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



2076ء


آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…