ہفتہ‬‮ ، 01 اگست‬‮ 2026 

رحمان بھولا ۔بولا تو بہت کچھ بول پڑا،بڑے بڑے نام زد میں آگئے

datetime 24  دسمبر‬‮  2016 |

کراچی(آئی این پی )سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزم رحمان بھولا کے اعترافی بیان کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں ، واقعے میں متحدہ قومی موومنٹ کے دیگر عہدیداروں کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف ،ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ سابق صوبائی وزیراور ایم کیوایم کے رہنما رؤ ف صدیقی نے سیاسی اثر ورسوخ اور دباؤ ڈال کر فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمہ درج کروا یا۔ تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو سانحہ بلدیہ کیس کے مرکزی ملزم رحمان بھولا کے اعترافی بیان کی مزید تفصیلات سامنے آ گئیں ۔ رحمان بھولا نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے اعترافی بیان میں بتایا کہ رحمان بھولا نے کہا کہ جولائی2012میں کے ٹی سی انچارج حماد صدیقی نے نائن زیرو بلایا تھا ۔ حماد صدیقی نے بتایا کہ اصفر بیگ کو ہٹا کر مجھے سیکرٹری انچارج لگایا جا رہا ہے ۔ ایم کیو ایم رہنما حماد صدیقی نے کہا کہ ایک ٹاسک دے رہا ہوں جو ہر حال میں پورا کرنا ہے ، حماد صدیقی نے کہا کہ علی انٹرپرائزز کے مالکان سے 25کروڑبھتہ لینا ہے ، علی انٹرپرائزز کے مالکان سے ملا اور حماد صدیقی کا بھتے کا پیغام پہنچایا تو فیکٹری مالکان نے چند دن سوچنے کے لئے وقت مانگا ۔ دوبارہ گیا تو انہوں نے کہا کہ صرف ایک کروڑ دے سکتے ہیں جب یہ پیغام حماد صدیقی کو پہنچایا تو وہ غصے میں آگئے اور کہا کہ علی انٹرپرائزز کی بلدیا ٹاؤن فیکٹری کو آگ لگا دو ، آگ لگانے کی ذمہ داری فیکٹری ملازم زبیر چریا کو دی گئی ۔

اگلے روز زبیر چریا میرے پاس آیا اور بتایا کہ آگ لگانے کے لئے کیمیکل کا بندوبست کر لیا ہے ۔آگ لگانے کے بعد حماد صدیقی نے کہااپنے علاقے کے ارکان اسمبلی اور کارکنوں کو لیکر فیکٹری پہنچو ۔امدادی کیمپ لگانا ہے ۔آگ لگانے کے بعد چار روز تک فیکٹری کے باہر امدادی کیمپ بھی لگایا ۔حماد صدیقی نے آگ لگانے والوں کو اماددی کاروائیوں میں شرکت کا کہا۔فیکٹری جلانے کے بعد معاملہ دبانے کے لئے سیاسی اثر ورسوخ استعمال کرنے کا کہا گیا ۔ایم کیو ایم رہنما اور سابق صوبائی وزیر داخلہ ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن رؤف صدیقی نے دباؤڈال کر فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا ۔ رؤف صدیقی اور حماد صدیقی نے فیکٹری مالکان کو ضمانت کے بعد بلایا تھا ۔فیکٹری مالکا ن سے کیس سے ہاتھ اٹھانے کے لئے 4سے5کروڑ وصول کئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…