ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے ایک چھوٹے سے علاقے کے غریب خاندان سے تعلق رکھنے والی یہ چار بہنیں آج کس حال میں ہیں اور کیا کرتی ہیں ؟

datetime 7  دسمبر‬‮  2016 |

سکھر (مانیٹرنگ ڈیسک) سچ ہی کہتے ہیں کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ بس لگن ، جذبہ اور عزم ہونا چاہیے جس کے ساتھ کو ئی بھی بڑے سے بڑا مقصد اس قدر آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جائیں۔ تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ کے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی چار بہنوںنے عزم و ہمت کی نئی مثال قائم کر دی ۔ غریب خاندان سے تعلق رکھنے والی ان چار بہنوں کو عزم وہمت کی روشن مثال کہا جائے تو بے جانا ہوگا۔ ان چاروں بہنوں نے انتہائی محدود وسائل کے ساتھ سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کی لیکن مقابلے کے امتحانات پاس کئے اور آج یہ چاروں محکمہ پولیس میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔
معروف اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سکھر شہر کی ایک کچی آبادی سے تعلق رکھنے والی بہنیں کشمالہ بھٹی، کومل بھٹی اور ماریہ بھٹی سندھ پولیس میں جبکہ شمائلہ بھٹی ریلوے پولیس میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ ان قابل اور باہمت لڑکیوں کے والد محمد انور بھٹی پلمبر کا کام کرتے ہیں جبکہ ان کی والدہ ساجدہ بی بی لیڈی ہیلتھ ورکر ہیں۔ دو کمروں پرمشتمل مکان میں پروش پانے والی ان ہونہار بیٹیوں کے والد محمد انور کا کہنا ہے کہ وہ ایک غریب آدمی ہیں لیکن بیٹیوں کی کامیابی نے ان کا سرفخر سے بلند کردیا ہے۔ ان کی چاروں بیٹیاں بھی پولیس سروس کو اپنا فخر قرار دیتی ہیں۔ وہ ناصرف دل و جان سے قوم کی خدمت کرنے کا عزم رکھتی ہیں بلکہ ملازمت کی ذمہ داریوں کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے لئے بھی کوشاں ہیں۔
یکے بعد دیگرے پولیس محکمے کو جوائن کر نے والی یہ چار بہنیں ان لوگوں کیلئے ایک مثال ہیں جو یہ سمجھتے ہیںکہ وطن عزیز پاکستان بس کرپشن اور کالے قانون کی سلطنت ہے ۔ یہ بھی ٹھیک کہ مملکت خداد اد میں طاقت اور رشوت کا دور دورہ ہے تاہم یہی وہ ملک ہے جہاں محنت کو اوڑھنابچھونا سمجھنے والے غریب مگر محنتی لوگ ایسے ایسے عہدوں پر جا پہنچے ہیں جہاں کے خواب ہر انسان دیکھا کرتا ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…