ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

جعلی ادویات کے کاروبار کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے قصہ پارینہ بنا دیا جائے،وزیراعلیٰ پنجاب

datetime 6  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور(نیوزرپورٹر)وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے لندن سے صوبائی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں جعلی ادویات کے خلاف جاری مہم کو مزید تیز کیا جائے۔ انہو ں نے کہا کہ اس مذموم کاروبار کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، جعلی کاروبار میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔ ہمیں ہر شہری کی جان عزیز ہے اور عوام کو جعلی ادویات تیار کرنے والے مافیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ اس مکروہ کاروبار کا ہر قیمت پر قلع قمع کرنا ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے جعلی ادویات کے خلاف جاری مہم میں حصہ لینے والے اداروں اور افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جہاں عوام کو معیاری اور بہتر طبی سہولتو ں کی فراہمی کیلئے سرگرم عمل ہے وہاں انہیں معیاری ادویات کی فراہمی بھی بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ حکومت صوبے میں ادویات کی خریداری کے عمل، تقسیم اور ترسیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے جس سے ادویات کی خردبرد اور غیرمعیاری ادویات کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کس قدر افسو س کی بات ہے کہ جعلی اور غیر معیاری ادویات کے کاروبار میں ملوث عناصر عوام کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ ہم نے ماضی میں بھی اس مکروہ کاروبار کرنے والوں پر ہاتھ ڈالا اور اب پوری قوت سے ان کے خلاف مہم شروع کی گئی ہے۔ حکومت ایسا نظام لا رہی ہے جس سے معاشرے کے تمام طبقات کو یکساں طبی سہولتیں میسر آئیں اور بلاتفریق ہر ایک کو معیاری ادویات دستیاب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ادویات کے جعلی کاروبار کو ہر حال میں ختم کرنا ہے اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر اس کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جعلی ادویات کے کاروبار کے خاتمے کیلئے موثر نظام وضع کیا ہے اور ایسے مکروہ کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف نشاندہی اور صحیح اطلاع دینے والے کو انعام دیا جائے گا اور ایسے فرض شناس شہریو ں کے نام بھی صیغہ راز میں رکھے جائیں گے جو مکروہ کاروبار کرنے والوں کے بارے میں اطلاع دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کی جعلی ادویات کے کاروبار کے خاتمے کیلئے کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مہم کو مزید تیز کیا جائے اور جعلی ادویات کے کاروبار کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے قصہ پارینہ بنا دیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف مہم کے دوران شاندار کارکردگی دکھانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…