جمعہ‬‮ ، 27 مارچ‬‮ 2026 

فوجی عدالتیں،فیصلے کی گھڑی آگئی

datetime 4  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی) فوجی عدالتوں کو دیئے گئے خصوصی اختیارات آئندہ ماہ 2 جنوری کو ختم ہوجائینگے ۔ گزشتہ برس 3 جنوری کو پارلیمنٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دیکر فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں توسیع کرتے ہوئے دہشت گردوں کی فوجی عدالتوں میں سماعت کی منظوری دی تھی پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں اضافہ کیا گیا تھا جس کے تحت فوجی عدالتوں کو دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط، مذہب کا نام استعمال کرکے جرائم، پاکستان کے خلاف لڑنے اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرنے والوں کے خلاف سماعت کا اختیار مل گیا تھا۔ترمیم کے بعد فوجی عدالتوں کو اغوا برائے تاوان میں ملوث مجرموں، ہتھیاروں کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں،خود کش جیکٹ اورگاڑیاں رکھنے اور بنانے والوں، دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے یا بیرون ملک سے دہشت گردی کے لیے معاونت حاصل کرنے والوں سمیت بیرون ملک اقلیتوں اور ملک کے لیے دہشت گردی یا عدم تحفظ جیسے حالات پیدا کرنے والوں کے خلاف بھی سماعت کا اختیارمل گیا۔

ایک رپورٹ کے مطابق فوجی عدالتوں کے اختیارات میں توسیع کی مدت آئندہ ماہ دو جنوری ختم ہو جائیگی محکمہ قانون کے ایک اہلکار نے نجی ٹی وی بتایا کہ وزارت قانون ترمیم سے متعلق محکمہ داخلہ کے مسودی کی تیاری کے انتظار میں ہے، محکمہ داخلہ نیشنل ایکشن پلان( نیپ) کے تحت فوجی عدالتوں کو دیے گئے اختیارات اور ہشت گردی میں بہتری کے حالات کا جائزہ لے رہا ہے۔اہلکار کے مطابق محکمہ داخلہ نے فوجی عدالتوں کی مدت بڑھانے سے متعلق وزارت قانون سے مشورہ کرلیا ہے، محکمہ داخلہ کے مطابق اگر وہ فوجی عدالتوں کی مدت بڑھانے کے خواہاں ہونگے تو تحریری طور پر وزارت قانون کو خط لکھیں گے۔

وزارت قانون کے اہلکار کے مطابق محکمہ داخلہ کی تحریری درخواست ملنے کے بعد وزارت قانون بل کی تیاری پر عمل شروع کرتے ہوئے بل کو پارلیمنٹ میں پیش کریگی۔پیپلزپارٹی کے سینیٹر سعید غنی کے مطابق 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کو دیئے گئے اختیارات پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کے بغیر نہیں بڑھائے جا سکتے، جبکہ مسلم لیگ (ن)یہ اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔سعید غنی کے مطابق حکومت نے فوجی عدالتوں کی مدت بڑھانے کیلئے پی پی پی سے رابطہ نہیں کیا ٗ حکومت فوجی عدالتوں کی مدت بڑھانے کیلئے تیار نظر نہیں آ رہی، گزشتہ بار بھی ان کی پارٹی اس بل پر حکومت کی حمایت کرنے پر تذبذب کا شکار تھی مگرسانحہ آرمی پبلک سکول پشاورکے پیش نظر حمایت کرلی، مگر اب حمایت کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کے مطابق ان کی پارٹی آئندہ اجلاس میں فوجی عدالتوں کی مدت کے معاملے پر بحث کرے گی۔فوادپ چوہدری نے کہا کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کرانے میں ناکام ہوچکی ہے ٗنیپ کی نظرداری پارلیمینٹ کی کمیٹی برائے داخلہ کے تحت کی جائے ٗ انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کی مدت بڑھانے کے لیے بھی ایک پینل تشکیل دیا جائے۔ذرائع محکمہ داخلہ کے مطابق فوجی عدالتوں کی مدت بڑھانے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل وزارت داخلہ فوجی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے۔وزیر مملکت بلیغ الرحمن نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کئی گنا بہتر ہوچکی ہے، اب فوجی عدالتوں کے اختیارات میں اضافے کی ضرورت نہیں رہی۔وزیر مملکت کے مطابق دسمبر 2014 میں صورتحال مختلف تھی، جس وجہ سے پی ایم ایل این کو سیاسی پارٹیوں کی حمایت لینے میں مشکلات نہیں ہوئیں تاہم اب حکومت کے لیے حمایت حاصل کرنا آسان نہیں ہے، بلیغ الرحمن کا کہنا تھا کہ ان کے خیال کے مطابق حالات کنٹرول میں ہیں، اس لیے فوجی عدالتوں کی مدت بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…