جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

کوئٹہ فائرنگ ،زخمی خاتون چل بسی ،جاں بحق خواتین کی تعداد5ہوگئی،دہشتگردوں نے کیسے نشانہ بنایا،تفصیلات سامنے آنے پرسوگ طاری

datetime 4  اکتوبر‬‮  2016 |

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) کوئٹہ کے علاقے کرانی میں ہزارہ ٹاؤن جانے والی بس پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی خواتین کی تعداد پانچ ہوگئی، جب کہ حملے میں بچی سمیت تین افراد زخمی بھی ہوئے۔پولیس کے مطابق کوئٹہ کے علاقے کرانی روڈ پر گھات لگائے دہشت گردوں نے مقامی مسافر بس پر فائرنگ کردی، جس سے چار خواتین موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں، ذرائع کے مطابق جاں بحق خواتین زائرین تھیں، جو ہزارہ ٹاؤن کی جانب جا رہی تھی۔ حملے میں بچی سمیت تین افراد زخمی ہوئے، جن کو طبی امداد کیلئے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایک اور خاتون زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج چل بسیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار بس زائرین کی نہیں بلکہ مقامی مسافر بس تھی، جو ہزارہ ٹاؤن کی جانب گامزن تھی، بس میں چالیس سے پچاس کے قریب مسافر سوار تھے، جس میں زیادہ تعداد خواتین کی تھی۔بس کے ساتھ سیکیورٹی کیلئے کوئی موبائل یا گاڑی موجود نہیں تھی، عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، جو پہلے سے بس کے انتظار میں موجود تھے۔حملہ آوروں نے جدید ہتھیاروں سے بس پر فائرنگ کی اور صرف پانچ منٹ کے محدود وقت میں حملے کے بعد باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ڈپٹی میئر کوئٹہ کا کہنا تھا کہ بس میں خواتین سمیت 40 افراد سوار تھے ۔ڈپٹی میئر کے مطابق حملہ آوروں نے سامنے کی جانب سے فائرنگ کی جس کی وجہ سے خواتین کو زیادہ نقصان پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں 4 خواتین موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں۔ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق موٹرسائیکل سوارحملہ آوروں کی تعداد3تھی، حملہ آورب س روک کر خواتین کے حصے میں داخل ہوئے، ندیم حسین کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے شناخت کے بعد خواتین کو نشانہ بنایا، بس میں9خواتین سوار تھیں،5کو نشانہ بنایا گیا، واقعہ میں ایک خاتون اور بچی زخمی ہوئے۔افسوسناک واقعہ کے فوری بعد ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ کسی تنظم کی جانب سے واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…