بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

سود ی کاروبار کے خلاف اللہ اور رسول اللہ ؐنے اعلان جنگ کیا ہے مگرپاکستان ۔۔۔! اہم رہنما نے انتباہ کردیا

datetime 11  اگست‬‮  2016 |

لاہور (آئی این پی)ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا ہے کہ سود ی کاروبار ایک جرم ہے ،اس کے خلاف اللہ اور رسول اللہ ﷺ نے اعلان جنگ کیا ہے مگر قائد اعظم ؒ کے پاکستان کے دعویدار ملک و قوم کو سود کی لعنت میں گھسیٹ رہے ہیں ۔آئین کا آرٹیکل 31حکمرانوں کو معاشرے کی قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق تشکیل کا حکم دیتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے علماء اکیڈمی منصورہ میں سودی بنکاری کے خلاف منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سیمینار سے ڈاکٹر عمران اشرف عثمانی ،شیخ القرآن و الحدیث مولانا عبد المالک اور معروف سکالر احمد علی صدیقی نے بھی خطاب کیا۔ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ دسمبر 1991میں وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خلاف تاریخی فیصلہ دیا ،مگر ہمارے حکمران گزشتہ پچیس سال سے اس فیصلہ کے خلاف اپیل میں ہیں انہوں نے کہا کہ عالمی معاشی نظام زیرو انٹرسٹ تک پہنچ چکا ہے اور معیشت کے بڑے بڑے عالمی ماہرین اسلام کے عادلانہ نظام معیشت کو معاشی مسائل کا حل قرار دے رہے ہیں جبکہ ہمارے حکمران محض آئی ایم ایف اور صیہونی مالیاتی اداروں کے دباؤ پر اللہ تعالیٰ سے جنگ مول لے رہے ہیں اور مرعوب ذہنیت کا سیکولر طبقہ سودی معیشت کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف دنیا میں خود کو سب سے بڑا مالیاتی ادارہ سمجھتا ہے ، خود اسے اپنے وجود کو برقرار رکھنے اور ادارے کو چلانے کیلئے اسے 6ہزار ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور اس کا اپنا سرمایہ ایک ہزار ارب ڈالر ہے ۔انہوں نے کہا کہ سودی نظام کی موجودگی میں ملک ترقی و خوشحالی کی منزل حاصل نہیں کر سکتا خواہ پورے ملک میں میٹرو بسیں اور اورنج لائن ٹرینیں چلادی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران بتائیں کہ انہوں نے عالمی سودی نظام سے کیا حاصل کیا ،آج پاکستان 73ارب ڈالر کا مقروض ہے جس پر سالانہ ہمیں کھربوں روپے سود کی مد میں دینا پڑتے ہیں جبکہ ہمارے عوام کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں اور تعلیم صحت اور روز گارکے حوالے سے ہم دنیا کے غریب ترین ممالک کی صف میں کھڑے ہیں۔ڈاکٹر محمد عمران اشرف عثمانی نے کہا کہ سیکولر طبقہ کہتا ہے کہ مال انسان کا ہے وہ جہاں اور جیسے چاہے خرچ کر سکتا ہے ،سوشلزم اور کیمو نزم مال کو ریاست کی امانت سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ ریاست جب چاہئے اپنے شہریوں سے مال واپس لے سکتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مال نہ انسان کا ہے اور نہ ریاست کا بلکہ یہ خالصتا اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ رزق ہے اور اللہ تعالیٰ انسان اور اس کو دیئے گئے مال کا حقیقی مالک ہے وہ ایک خاص مدت تک کیلئے مال انسان کو بطور امانت یہ مال دیتا ہے اور ساتھ حکم دیتا ہے کہ یہ مال اس کی مرضی کے خلاف استعمال نہ کیا جائے مگر انسان کی یہ سب سے بڑی بدقسمتی اور اپنے مالک سے بغاوت ہے کہ وہ مال کو اس کی مرضی کے خلاف نہ صرف استعمال کرتا ہے بلکہ اس کے ساتھ جنگ مول لینے سے بھی نہیں ڈرتا۔سیمینار میں کوئٹہ دھماکے میں شہید ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت کی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…