بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

نئی ایکسپریس وے،خیبرپختونخوا حکومت کا میگا پراجیکٹ ،زبردست اعلان کردیاگیا

datetime 6  اگست‬‮  2016 |

پشاور(این این آئی)صوبائی حکومت کے میگا پراجیکٹ سوات ایکسپریس وے کا سنگ بنیاد اسی ماہ متوقع ہے جو صوبے کی عوام کیلئے نہ صرف فوری طور پر فائدہ مند ہو گا بلکہ صوبے کی ترقی اور سرمایہ کاری کے کثیر مواقع فراہم کرے گا۔ یہ پراجیکٹ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ(PPP)ایکٹ 2014ء کے تحت شروع کیا گیا اور دو سال کے عرصے میں 38ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔81کلومیٹرطویل ایکسپریس وے پشاور۔اسلام آبادموٹر وے پر موجود کرنل شیر انٹر چینج سے شروع ہو کر چکدرہ تک جائیگا۔ اس منصوبے میں الہ ڈھنڈاور پلئی کے مقامات پر 2کلومیٹر طویل ٹنل بھی شامل ہے۔ اس پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد کرنل شیر انٹر چینج سے چکدرہ تک سفر 45منٹ میں طے کیا جا سکے گا۔پختونخوا ہائی وے اتھارٹی کے حکام کے مطابق ایکسپریس وے 2کلومیٹرنوشہرہ، 18کلومیٹر صوابی،40کلومیٹر مردان جبکہ 21کلومیٹرملاکنڈ کی حدود میں ہے، اس سڑک کی چوڑائی 80میٹرہے۔ اعداد و شمارکے مطابق روزانہ 18000گاڑیاں ایکسپریس وے استعمال کریں گی جس سے وقت کی بچت کے علاوہ عوام کو پیسوں کی بھی خاطر خواہ بچت ہو گی۔ایکسپریس وے کو موٹر وے کی طرز پر بنایا جارہا ہے جس میں ابتدائی طور پر 2لین ہوں گی جبکہ مستقبل میں اس کو 3لین یا ٹریک تک بڑھایا جائے گا۔منصوبے میں دھوبیان،اسماعیلہ، کاٹلنگ، پلئی، بٹ خیلہ اور چکدرہ کے مقامات پر انٹر چینج بنائے جا رہے ہیں جس سے 40 سے زائد مقامات کی اہم اور بڑی منڈیوں تک رسائی ممکن ہو جائے گی۔اس منصوبے سے دیر، شانگلہ،چترال اورکوہستان کے عوام بھی مستفید ہونگے۔ ایکسپریس وے سے ملحقہ دیہاتوں کے مکینوں کو روزگار کے ساتھ ساتھ کاروبار کے اچھے مواقع بھی میسر آسکیں گے ۔ماضی میں مذکورہ علاقے غیر ترقیافتہ رہے کیونکہ ان کی بڑی اوراہم منڈیوں تک رسائی کم تھی۔سوات ایکسپریس وے سے صوبے میں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا اور سیاحوں کی ان علاقوں تک رسائی آسان ہو جائے گی ۔ اس منصوبے سے صوبے میں کاروبار کے باالواسطہ مواقع بھی پیدا ہوں گے۔خیبر پختونخوا ہائی وے حکام کے مطابق یہ منصوبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ان علاقوں تک بھی رسائی آسان ہو جائے گی جہاں تک ماضی میں پہنچنا ممکن نہیں تھا۔منصوبے کے لئے زمین کی حصول کا 70%کا م مکمل کر لیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ اس منصوبے کی وجہ سے جنگلات کم سے کم متاثر ہوں جبکہ منصوبے کی وجہ سے صرف 100سے کم گھرانے متاثر ہو رہے ہیں۔صوبائی حکومت نے پبلک پرائیوٹ پارٹرن شپ ایکٹ 2014ء کے تحت یہ منصوبہ فرنٹےئر ورکس آرگنائزیشن (FWO)کے حوالے کیا ہے اور صوبائی حکومت نے اس کی جلد ازجلد تکمیل کی واضح ہدایات بھی جاری کر رکھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…