اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی کا پانامہ ایشو پر نواز شریف کو کسی قسم کی مدد اور تعاون کرنے سے انکار

datetime 25  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کا پانامہ ایشو پر نواز شریف کو کسی قسم کی مدد اور تعاون کرنے سے انکار ، نواز زرداری ملاقات سیاسی اتحادیوں کی مداخلت کے باوجود بھی ممکن نہیں ہے۔ لندن میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی میں کسی بھی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ معاہدے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ آن لائن ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف پانامہ ایشو پر اپنی جماعت کی طرف سے نئی حکمت عملی طے کرنے کے سلسلے میں لندن میں موجود ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ وہ پانامہ ایشو پر سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کر کے ان کی حمایت حاصل کر سکیں ۔ اس حوالے سے جے یو آئی سربراہ اور موجودہ حکومت کے اتحادی مولانا فضل الرحمن سے مدد حاصل کی گئی ہے کیونکہ مولانا فضل الرحمن آصف علی زرداری کے گزشتہ دور میں بڑے اتحادی اور قریبی رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے مشاورت سے فیصلہ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی پانامہ ایشو پر نواز شریف کو کسی قسم کی مدد نہیں کرے گی کیونکہ نواز شریف جب مشکل میں ہوتے ہیں تووہ گھٹنے ٹیک لیتے ہیں جب کام نکل جاتا ہے تو ان کی گردن میں سریا آ جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب پاکستان پیپلز پارٹی نواز شریف کے دھوکے میں آنیو الی نہیں ہے۔ اس سے پہلے نواز شریف پیپلز پارٹی کو کئی مرتبہ مشکل میں تنہا چھوڑ چکے ہیں۔ اب نواز شریف جب مشکل میں آئے ہیں تو شدید پریشان ہیں اور عاجزی سے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے پاکستان پیپلز پراٹی کی حمایت حاصل کر یں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز لیگ کا ماضی اچھا نہیں ہے ۔ انہوں نے کبھی سیاسی کمٹمنٹ پوری نہیں کی اس وجہ سے اب ان کی دال گلنے والی نہیں ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئر مین آصف علی زرداری پارٹی رہنماؤں سے پانامہ ایشو پر مشاورت مکمل کر چکے ہیں اور مشاورت میں یہی طے پایا ہے کہ اس ایشو پر نواز شریف کوئی حمایت نہ کی جائے کیونکہ پاکستان کی عوام چاہتی ہے کہ نواز شریف کا احتساب ہو۔ نواز زرداری ملاقات اور پانامہ ایشو پر نواز شریف کی ممکنہ حمایت پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت کی شدید تحفظات ہیں۔ آن لائن ذرائع نے بتایا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی ایم کیو ایم کو حکومتی کیمپ میں لانے کی کوششیں بے سود رہیں گی کیونکہ ایم کیو ایم کو موجودہ حکومت سے شکایتیں ہیں۔ آن لائن ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ نواز شریف پانامہ ایشو پر عوام کو جواب دیں کیونکہ اب صورت حال ایسی ہو گئی ہے کہ نواز شریف کو بھگتنا پڑے گا۔ سابق صدر آصف علی زرداری پانامہ ایشو پر نواز شریف کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے لیکن چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور سینئر قیادت نے شہادت کا فیصلہ کیا کہ اگر اب نواز شریف کا ساتھ دیا گیا تو اس سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ساکھ کو شدید نقصان ہو گا۔ ذرائع نے بتایا کہ لندن میں آصف علی زرداری سے مولانا فضل الرحمن کی ملاقات ضرور ہو گی لیکن مولانا فضل الرحمن آصف علی زرداری کو نواز شریف سے ملاقات کے لئے قائل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہیں گے اور نواز شریف لندن میں نئی سیاسی حکمت عملی بنانے میں ناکام ہو جائیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…