اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کی جیب پرخاموشی سے 65ارب کا ڈاکہ،حیرت انگیز تفصیلات منظر عام پر

datetime 24  مئی‬‮  2016 |

لاہور(این این آئی )پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کے نام خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس مفادات کی مشترکہ کونسل میں پیش ہونے والی نیپرا کی رپورٹ پر حکومت سے جواب طلب کریں ۔نیپرا نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2015 ء میں خفیہ سرچارجز لگا کر بجلی کے صارفین سے 65ارب روپے اضافی وصول کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اس حکومتی ڈاکے کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ عوام سے لوٹی گئی دولت انہیں واپس دلائیں۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ حکومتیں عوام کو ریلیف دیتی ہیں مگر موجودہ حکمرانوں نے غریب عوام کو لوٹنے کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران ایک طرف دعوے کرتے ہیں کہ وہ سستی بجلی کی فراہمی کیلئے ماہانہ اربوں روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں جبکہ نیپرا کی رپورٹ بتارہی ہے حکومت بجلی کے صافین کی جیبوں پر ڈاکے ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت ہے مفادات کی مشترکہ کونسل میں کے کسی صوبہ کے عوامی نمائندے نے تاحال اس پر اپنا احتجاج ریکارڈ نہیں کروایا۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں بشمول سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی کسی رکن اسمبلی نے اس قومی ڈاکے پر صدائے احتجاج بلند نہیں کی اور نہ ہی اپوزیشن کی کسی جماعت نے تاحال اسمبلی میں کوئی قرارداد جمع کروائی اور نہ تحریک التواء۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو لوٹ رہی ہے اور اپوزیشن بھی مفاد عامہ کے تحفظ میں عوامی امنگوں کی ترجمانی کرنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کم کرنے کی آڑ میں دھڑا دھڑ غیر ملکی قرضے بھی لیے جارہے ہیں۔ پاور سٹیشنز کے افتتاح بھی ہورہے ہیں۔ گردشی قرضے بھی ادا ہورہے ہیں اربوں کی اووربلنگ بھی ہورہی ہے اس کے باوجود لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18 گھنٹے ہے جس کی وجہ سے زندگی کا پہیہ جام ہو چکا ہے۔خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ نواز ،شبہاز حکومت توانائی کا بحران حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ۔قوم کو تین سال سے ایم او یو سائن کرنے ،پاور سٹیشنز کے افتتاح کرنے پر ٹرخایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…