اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

ٹی وی پر پیسے لیکر پروگرام ،چیف جسٹس کے صبر کاپیمانہ لبریز‎

datetime 24  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ’ پیسے لے کر پروگرام کیے جاتے ہیں، ایک پروگرام کر کے جس کی چاہیں پگڑی اچھال دیں ، ضابطہ اخلاق پرعمل ہو تو سارے مسائل حل ہوجائیں گے، ایسی سزائیں دینے کی ضرورت ہے جو مثال بن جائیں ۔جسٹس عظمت سعید نے کہا ہے کہ پیمرا صرف فحش گانوں کے پیچھے پڑا ہے، کیا ٹی وی پر جمہوری نظام کو لپیٹنے کی باتیں نہیں ہوتیں؟ چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ پیمرا صرف ایڈوائس اور وارننگ ہی جاری کرتا ہے، ضابطہ اخلاق پرعمل ہو تو سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔سپریم کورٹ میں قابل اعتراض مواد نشر ہونے سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس انورظہیر جمالی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ضابطہ اخلاق پرعمل ہو تو سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔پیمرا صرف ایڈوائس اور وارننگ جاری کرتا ہے، ایسی سزائیں دینے کی ضرورت ہے جو مثال بن جائیں، ایک پروگرام کرکے جس کی چاہیں پگڑی اچھال دیں، پیسے لے کر پروگرام کیے جاتے ہیں۔پیمرا کے وکیل کا کہنا تھا کہ کونسل آف کمپلین کی سفارش پر نجی چینل کو 10 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا، تو نجی چینل نے ہائی کورٹ سے حکم امتناع حاصل کرلیا، پیمرا قوانین کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا فرقہ ورانہ تقسیم کو ہوا نہیں دی جاتی؟ کیا ٹی وی پر شدت پسندی کے حق میں بات نہیں ہوتی؟ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ کیا ٹی وی پر جمہوری نظام کو لپیٹنے کی باتیں نہیں ہوتیں؟ کیا ٹی وی پر قائد اعظم اور علامہ اقبال کے نظریات کے خلاف باتیں نہیں ہوتیں؟پیمرا صرف فحش گانوں کے پیچھے پڑا ہے، پاکستان پر فاشزم نافذ نہ کریں، ایسا کام نہیں کرنا کہ پاکستان کی انفارمیشن بی بی سی سے لینی پڑے، آمر کے دور میں نیوز کاسٹر سر پر دوپٹا نہ لے تو اسے ہٹا دیا جاتا تھا، کہنے والوں نے تو منٹو کو بھی فحاش کہہ دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہر چیز میں مداخلت ختم ہونی چاہیے، معاملے کو ایسے نہیں چھوڑیں گے قانون پر عمدرامد کرایا جائے گا۔عدالت نے میڈیا پر قابل اعتراض مواد نشر کرنے سے روکنے سے متعلق پیمرا سے جواب طلب کرتے ہوئےکیس کی سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کردی۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…