اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

ڈونلڈ ٹرمپ کا محاسبہ ۔۔ اور عمران خان کی پارلیمنٹ یاترا۔۔ جاوید چودھری کی خصوصی تحریر

datetime 18  مئی‬‮  2016 |

ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے کھرب پتی بزنس مین ہیں‘ یہ رئیل سٹیٹ اور میڈیا کمپنیوں کے مالک ہیں‘ یہ اس وقت ریپبلکن پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوارہیں‘ ٹرمپ نے دسمبر میں جوش خطابت میں بیان دیا ٗ امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگا دینی چاہیے‘ ہم اگر اس فقرے کو اپنے سیاسی کلچر میں رکھ کر دیکھیں تو ہمیں یہ بہت معمولی محسوس ہو گا‘ ہم تو دوسروں کو کافر تک قرار دے دیتے ہیں لیکن امریکا اور مغربی ممالک نے اس معمولی فقرے پر ٹرمپ کا محاسبہ شروع کر دیا‘ یہ الفاظ نہ صرف ۔۔ان کے گلے پڑ گئے بلکہ یہ فقرہ شاید ۔۔ان کا سارا سیاسی کیریئر نگل جائے‘ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکا کے چند کانگریس مین نے ٹرمپ جیسے سیاستدانوں کی زبان کو لگام دینے کیلئے قانون سازی شروع کر دی ہے اگر یہ قانون بن گیا تو پھر امریکا میں کوئی سیاستدان اس قسم کا فقرہ نہیں بول سکے گا‘ کاش ہم بھی اس ملک میں سیاسی گالیوں کے خلاف کوئی ایسا قانون بنا پائیں‘ میں اس سے آگے کچھ نہیں کہوں گا۔
آج عمران خان بالآخر پارلیمنٹ پہنچ گئے‘ یہ فیصلہ درست فیصلہ ہے‘ پارلیمنٹ ہی سپریم ہے‘ یہ ہی رائٹ فورم ہے‘ آپ خواہ سڑکوں پر دس ہزار جلسے کر لیں ۔ فیصلہ بالآخر پارلیمنٹ میں ہی ہو گا‘ آپ خواہ ڈرائنگ روموں میں دس دس بار ٹی او آرز بنا لیں لیکن اصل ٹی او آرز وہی ہوں گے جو پارلیمنٹ میں بنیں گے ‘ آپ دیکھ لیجئے چیف جسٹس نے حکومت کے ٹی او آرز مسترد کر دیئے اور اپوزیشن کے ٹی او آرز حکومت نے ’’ری جیکٹ‘‘ کر دیئے‘ آخر میں فیصلہ کیا ہوا‘ پارلیمنٹ‘ خان صاحب کو یہ حقیقت ماننا ہو گی‘ آج قومی اسمبلی میں خواجہ آصف نے بھی ایک دلچسپ بات کی‘ خواجہ صاحب کا خیال ہے‘ خورشید شاہ نے 16 مئی کو پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کروا کر اور عمران خان کو میڈیا کے سامنے کونے میں کھڑا کر کے اپنی توہین کا بدلہ لے لیا‘ میں سمجھتا ہوں خواجہ صاحب کا اندازہ غلط ہے‘ خورشید شاہ جیسے پرانے سیاستدان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی‘ یہ عمران خان سے اس طرح بدلہ لیں گے‘ آج عمران خان نے ایوان میں فرمایا‘ اگر پارلیمنٹ میں انصاف نہ ملا تو دوبارہ سڑکوں پر ہوں گے‘ یہ فقرے ثابت کرتے ہیں‘ عمران خان نے ایک بار پھر سولو فلائیٹ کا فیصلہ کر لیا ہے‘ یہ دوبارہ اکیلے میدان میں اترنے لگے ہیں‘ کیا عمران خان اس عالم میں یہ تحریک چلا سکیں گے کہ ایک طرف مشترکہ ٹی او آرز بن چکے ہوں گے اور دوسری طرف جوڈیشل کمیشن بن چکا ہو گا اگر ہاں تو کیا عمران خان اس بار کامیاب ہو جائیں گے‘ اس کا فیصلہ آئندہ آنے والے چند روز میں ہو جائے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…