منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پانامہ لیکس کی دوسری قسط کے سارے نام سامنے آگئے

datetime 10  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) پانامہ لیکس کی دوسری قسط کے سارے نام سامنے آگئے ، دوسری قسط میں 250 آف شور کمپنیاں ہیں جن کے 400 پاکستانی مالکان ہیں ، کراچی کے 150 سے زائد اور لاہور کے 100 سے زائد شہریوں نے آف شور کمپنیاں بنائی ہیں ۔نجی ٹی وی کے مطابق پیر کو پانامہ لیکس کی دوسری قسط کے سارے نام سامنے آگئے ۔ جس میں 250 آف شور کمپنیاں ہیں اور ان کے 400 کے قریب پاکستانی مالکان ہیں ۔ کراچی کے 150 سے زائد شہری آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں ۔ لاہور کے 100 سے زائد شہری آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں جب کہ اسلام آباد، پشاور اور گجرات کے شہری بھی آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں ۔ پاکستان میں سب سے زیادہ سیف اللہ خاندان کے سات افراد 30 سے زائد آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں ،جن میں جاوید سیف اللہ اکیلے ہی 17 کمپنیوں کے مالک ہیں ۔ عمران خان کے دوست زلفی بخاری کی بہنوں کی 6 آف شور کمپنیاں ہیں ۔ آف شور کمپنیوں کے 56 مالکان کا تعلق کراچی کے علاقے ڈیفنس سے ہے جب کہ کلفٹن کراچی کے 35 رہائشی آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں ۔ گلبرک لاہور کے 19 شہری آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں ۔ یہ کمپنیاں 1988 سے 2015 تک کے عرصے میں رجسٹرڈ کرائی گئیں ۔ 2007 میں ایک ہی سال میں 27 کمپنیاں رجسٹر ہوئی ۔ برٹش ورجن آئی لینڈ نے پاکستانیوں کی 153 آف شور کمپنیاں ہیں ۔ سب سے پرانی کمپنی 1988 میں میاں ضیاء الدین طور کے نام پر رجسٹر ہوئی تھی جب کہ سب سے نئی کمپنی 2015 میں ماجد صدیقی داؤد کے نام سے رجسٹر ہوئی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…