منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

خفیہ معلومات کا حصول،حکومت پاکستان کے فیس بک انتظامیہ کے ساتھ رابطے منظر عام پر آگئے،حیرت انگیز انکشافات

datetime 30  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)حکومت پاکستان کی جانب سے فیس بک استعمال کرنے والے افراد کے بارے میں معلومات کے حصول کیلئے درخواستوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔اس بات کا انکشاف فیس بک کی ششماہی ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں کیا گیا ۔جولائی 2015 سے دسمبر 2015 کے دوران حکومت پاکستان کی جانب سے فیس بک سے ڈیٹا کے حصول کیلئے 471 درخواستیں کی گئیں گزشتہ برس جنوری سے جون تک یہ تعداد 192 تھی یعنی کہ پاکستان کی جانب سے چھ ماہ کے دوران 245 فیصد اضافہ ہوا۔فیس بک کے مطابق پاکستانی حکومت نے 706 صارفین یا اکاؤنٹس کے بارے میں ڈیٹا طلب کیا تھا ٗ گزشتہ برس جنوری سے جون تک یہ تعداد 275 تھی، اس حوالے سے بھی 256 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔471 درخواستوں میں سے فیس بک نے 66.45 فیصد پر تعاون کرتے ہوئے حکومت کو معلومات فراہم کیں۔فیس بک نے انکشاف کیا کہ دنیا بھر کی حکومتوں کی جانب سے 60 فیصد ڈیٹا درخواستیں زبان بندی کے حکم کے ساتھ موصول ہوئیں یعنی کمپنی کو متعلقہ صارف کو اس طرح کی درخواست کے بارے میں بتانے سے روکنے کی ہدایت کی گئی۔فیس بک کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ وہ کسی بھی حکومت کو بیک ڈور یا صارف کے ڈیٹا تک براہ راست رسائی نہیں دیتا اور ہر درخواست کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس کا جواب دینا چاہئے یا نہیں۔اس سے قبل گزشتہ سال فیس بک نے اپنی رپورٹ کے حوالے سے کہا تھا کہ حکومتی درخواستوں پر جواب اسی صورت میں دیا جاتا ہے جب وہ کسی فوجداری مقدمے سے متعلق ہو۔حکومت پاکستان کی جانب سے جولائی 2014 سے دسمبر 2014 کے درمیان 100 درخواستوں کے ذریعے 150 صارفین یا اکاؤنٹس کا ڈیٹا طلب کیا گیا تھا۔نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکشن کی قانونی درخواستوں کی بناء پر 6 پیجز سے ایسے مواد کو بلاک کیا گیا جو پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی یا توہین مذہب پر مبنی تھا ٗانسٹاگرام اور واٹس ایپ بھی فیس بک کی ہی ملکیت ہیں تاہم ان پر موجود صارفین سے متعلق درخواستوں کے اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے ۔فیس بک کے مطابق وہ اپنے انڈسٹری کے شراکت داروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر دنیا بھر کی حکومتوں پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ نگرانی کے عمل میں اصلاحات کریں تاکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے جب کہ سیکیورٹی اداروں کو بھی شہریوں کے حقوق اور آزادی کا احترام کرنا چاہیے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…