منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس پا نا مہ لیکس کے حوالے سے کمیشن کی سر براہی کرتے ہوئے ایسا فارمولہ اختیار کریں جو سب کیلئے قابل قبول ہو ، افتخار محمد چوہدری

datetime 30  اپریل‬‮  2016 |

راولپنڈی (نیوزڈیسک) سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پا کستان وپاکستان جسٹس اینڈ ڈیمو کر یٹک پا رٹی کے سربراہ افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پا کستان جسٹس انور ظہیر جمالی کو چاہیے کہ وہ پا نا مہ لیکس کے حوالے سے کمیشن کی سر براہی کرتے ہوئے کوئی ایسا فارمولہ اختیار کریں کہ جو سب کے لئے قابل قبول ہو اور اس میں ان کی غیر جا نبداری بھی بر قرار رہے انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں صاف ستھری سیاست کے فروغ کے لئے سیاسی جماعت قائم کی ہے ہمارا ایجنڈاہی عدل او ر جمہوریت ہے اس ملک کے لئے قابل فخر اس ملک کا محنت کش ہے جو اپنے خون پسینے کی کمائی سے اس ملک کو قوت دے رہا ہے یکم مئی کو گھوٹکی اور سندھ کے محنت کش عوام سے اظہار یک جہتی کروں گا اس مقصد کے لئے پارٹی کے زیر اہتمام ایک جلسہ اور واک بھی یکم مئی کو منعقد کی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے رفقاء اور پارٹی کا کنوں کے ہمراہ ہاریوں ، سندھ کے محنت کشوں سے عالمی یوم مزدورکے موقع پر گھوٹکی اور اندرون سندھ کے دورہ پر روانگی سے قبل راولپنڈی ریلوے سٹیشن پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہم شکاگو کے مزدوروں کو سلام پیش کرتے ہں جن کی جدوجہد سے مزدوروں کے لئے عا لمی سطح پر آسانیاں پیدا ہو ئیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر اس ملک کو بچانا ہے تو بلا تفریق سب کا احتساب کیا جائے انہوں نے کہا ہے کہ کوئی بھی مقدس گا ئے نہیں ہے سب کا احتساب کیا جا ئے اس موقع پر پاکستان جسٹس اینڈ ڈیمو کر یٹک پا رٹی کے مقامی رہنما ملک عمران ۔ اور دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ خطیب جا مع مسجد مکی و ممہتم مدرسہ دار الفتاع ولاارشاد گولمنڈی مولانا محمد قاسم نے دعا سے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پا کستان وپاکستان جسٹس اینڈ ڈیمو کر یٹک پا رٹی کے سربراہ افتخار محمد چوہدری اور ان کے رفقاء کو رخصت کیا اس موقع پر شہریوں ور پارٹی کے مقامی کارکنوں کی بڑی تعداد رات گئے ریلوے سٹیشن پر موجود تھی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…