منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

معروف اینکر پرسن ڈاکٹرشاہد مسعودنے اہم ترین شخصیت کیخلاف اپنی شکایت واپس لے لی،وضاحت جاری

datetime 30  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی) اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعودنے نجی ٹی وی چینلز کیخلاف اپنی شکایت واپس لے لی جس کے نتیجے میں کونسل آف کمپلینٹس نے ان کی شکایت کو نمٹا دیا۔ شاہد مسعود نے کونسل کو واضح کیا کہ ان کی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید کے خلاف شکایت نجی ٹی وی چینلز کیخلاف نہیں تھی بلکہ پی ٹی وی کیخلاف تھی۔ چوں کہ پی ٹی وی کو سرکاری ٹی وی کی حیثیت سے پیمرا قوانین سے استثنٰٰی حاصل ہے لہٰذا کونسل نے مذکورہ شکایت پیمرا قوانین کے تحت ناقابل سماعت ہونے کی بنا پر خارج کر دی۔ دوسرے کیس میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈا ر کے وکیل نے ایک مرتبہ پھر ڈاکٹر شاہد مسعود اور اے آر وائی نیوز چینل کو کونسل کی اگلی سماعت تک اپنا دفاع پیش کرنے کی اجازت دے دی۔ اے آر وائی نیوز اور شاہد مسعود کے وکیل نے سماعت کو دوسری مرتبہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی ۔ شکایت گزار محترمہ فرح رزاق، ریجنل ڈائریکٹر پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کی دنیا ٹی وی کے خلاف ہتک آمیز پروگرام نشر کرنے کی شکایت کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی کاپی موصول ہونے کے بعد تین دن کے اندر ہائی کورٹ کے احکامات پر جواب دائر کرنے کی ہدایت کے ساتھ سماعت مؤخر کر دیا گیا۔کونسل نے محترمہ حلیمہ کی کچھ ٹی وی چینلز کیخلاف شکایت کو ان کی درخواست پر اگلے اجلاس میں خاضری کو یقینی بنانے کی ہدایت کے ساتھ مؤخر کردیا ۔اسلام آباد ڈائیگنوسٹک سنٹر کی جانب سے اے آر وائی نیوز کیخلاف دائر کردہ شکایت کی سماعت کرتے ہوئے مذکورہ چینل کو انتباہ جاری کرنیکی سفارش کی۔ شکایت کنندہ کے مطابق مذکورہ چینل کی جھوٹی رپورٹنگ کی وجہ سے ادارے کی ساکھ اور شہرت متاثر ہوئی۔ محترمہ سائرہ افضل تارڑ، وزیر مملکت برائے صحت کی جانب سے دائر کردہ شکایت پر کونسل نے شکایت کنندہ کو مکمل دستاویزی ثبوت کے ساتھ شکایت دائر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مؤخر کر دیا۔ کونسل نے شہدافاؤنڈیشن کی جانب سے دائر کردہ شکایات کو عدم خاضری اور سابقہ گزارشات پر عمل نہ کرنے کی بناء پر نمٹا دیا۔ مزیدبراں، سینیٹر عبدالرحمن ملک کی دائر کردہ شکایت پر کونسل نے شکایت کنندہ کو پروگرام کے اس محصوص مواد جس پر ان کو اعتراض ہے کو واضح کرنے کی ہدایت کی ہے۔جلاس میں دیگر کونسل ممبران بشمول محترمہ نزہت فاطمہ، پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری، ڈاکٹر شا ہجہا ن سید، ہارون رشید اور محمد فاروق (آر جی ایم/سیکرٹری کونسل) بھی موجود تھے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…