پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

مجھے بلیک میل نہیں کیا جاسکتا ،خورشید شاہ کے صبر کا پیمانہ لبریز،وزیراعظم نوازشریف بارے جوابی انکشافات

datetime 29  اپریل‬‮  2016 |

سکھر (نیوزڈیسک)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پاناما لیکس میں الزامات وزیراعظم پرنہیں لگائے گئے بلکہ یہ الزامات نوازشریف پرہیں لیکن عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے اخبارات میں اشتہارات لگائے گئے اگر الزام وزیراعظم پرہوتاتویہ اشتہارات بنتے تھے، موبائل فون خریداری کو سکینڈل بنا کر مجھے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا اور نہ اس اس معاملے کو پانامہ لیکس کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے،،یہ ایک اچھا پراجیکٹ تھا جو حاجیوں کے لئے بنایا گیا تھا ،اس پراجیکٹ میں کوئی کرپشن نہیں تھی ،نیب اور ایف آئی اے سے تحقیقات کرائی جائیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم نے تحقیقات کیلئے نوازشریف کی فیملی کی بات کی ہے اور وزیراعظم کے اہلخانہ کااحتساب ہوناچاہیے۔ میری نیت خراب نہیں ہے موبائل کمپنی سے خریدے گئے فون حاجیوں کو فراہم کیے گئے تھے حاجیوں کیلئے خریدے گئے موبائلوں کا تو فائدہ ہوا تھا کہ گمشدہ حاجی تلاش کرنے میں آسانی ہوئی تھی اور موجودہ حکومت کو بھی چاہئے کہ حاجیوں کے لئے ایسا کوئی منصوبہ بنائے پاناما لیکس پرتحقیقات کے مطالبہ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ معاملہ بلیک میلنگ کے طور پرنہیں اٹھایا گیا یہ کوئی سکینڈل نہیں جو نواز شریف عوام میں لے کر جا رہے ہیں سکینڈل تو پانامہ لیکس ہیں جس سے خوفزدہ ہو کر وزیر اعظم نے 10 کروڑ روپے کے حکومتی خزانہ سے اشتہارات دے دیئے ہیں جو کہ غیر ضروری ہیں۔ایک صحافی نے سوال اٹھایا کہ کیاموبائل فون خریداری کامعاملہ پاناماپیپرزکی وجہ سے سامنے آیا؟ جس پر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پاناماپیپرزنیامعاملہ ہے لیکن موبائل خریداری تو 2012 میں کی تھی اس معاملے پرمجھے کوئی بلیک میل نہیں کررہا۔ حاجیوں کی گمشدگی روکنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں،موبائل فون کی خریداری جائزطریقے سے کی گئی حاجیوں کوموبائل فون فراہم کرنااچھاپراجیکٹ تھا تحقیقات کروائی جائیں توخوش ہوں گا۔اگرکوئی کرپشن ہے تونیب یاایف آئی اے سے تحقیقات کروائی جائیں یہ آڈٹ کامعاملہ ہے، اس وقت وزیرضرورتھا مگر میرااس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…