منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

مجھے بلیک میل نہیں کیا جاسکتا ،خورشید شاہ کے صبر کا پیمانہ لبریز،وزیراعظم نوازشریف بارے جوابی انکشافات

datetime 29  اپریل‬‮  2016 |

سکھر (نیوزڈیسک)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پاناما لیکس میں الزامات وزیراعظم پرنہیں لگائے گئے بلکہ یہ الزامات نوازشریف پرہیں لیکن عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے اخبارات میں اشتہارات لگائے گئے اگر الزام وزیراعظم پرہوتاتویہ اشتہارات بنتے تھے، موبائل فون خریداری کو سکینڈل بنا کر مجھے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا اور نہ اس اس معاملے کو پانامہ لیکس کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے،،یہ ایک اچھا پراجیکٹ تھا جو حاجیوں کے لئے بنایا گیا تھا ،اس پراجیکٹ میں کوئی کرپشن نہیں تھی ،نیب اور ایف آئی اے سے تحقیقات کرائی جائیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم نے تحقیقات کیلئے نوازشریف کی فیملی کی بات کی ہے اور وزیراعظم کے اہلخانہ کااحتساب ہوناچاہیے۔ میری نیت خراب نہیں ہے موبائل کمپنی سے خریدے گئے فون حاجیوں کو فراہم کیے گئے تھے حاجیوں کیلئے خریدے گئے موبائلوں کا تو فائدہ ہوا تھا کہ گمشدہ حاجی تلاش کرنے میں آسانی ہوئی تھی اور موجودہ حکومت کو بھی چاہئے کہ حاجیوں کے لئے ایسا کوئی منصوبہ بنائے پاناما لیکس پرتحقیقات کے مطالبہ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ معاملہ بلیک میلنگ کے طور پرنہیں اٹھایا گیا یہ کوئی سکینڈل نہیں جو نواز شریف عوام میں لے کر جا رہے ہیں سکینڈل تو پانامہ لیکس ہیں جس سے خوفزدہ ہو کر وزیر اعظم نے 10 کروڑ روپے کے حکومتی خزانہ سے اشتہارات دے دیئے ہیں جو کہ غیر ضروری ہیں۔ایک صحافی نے سوال اٹھایا کہ کیاموبائل فون خریداری کامعاملہ پاناماپیپرزکی وجہ سے سامنے آیا؟ جس پر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پاناماپیپرزنیامعاملہ ہے لیکن موبائل خریداری تو 2012 میں کی تھی اس معاملے پرمجھے کوئی بلیک میل نہیں کررہا۔ حاجیوں کی گمشدگی روکنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں،موبائل فون کی خریداری جائزطریقے سے کی گئی حاجیوں کوموبائل فون فراہم کرنااچھاپراجیکٹ تھا تحقیقات کروائی جائیں توخوش ہوں گا۔اگرکوئی کرپشن ہے تونیب یاایف آئی اے سے تحقیقات کروائی جائیں یہ آڈٹ کامعاملہ ہے، اس وقت وزیرضرورتھا مگر میرااس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…