منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

تحریک انصاف کی لاڑکانہ میں دبنگ انٹری

datetime 29  اپریل‬‮  2016 |

لاڑکانہ(نیوزڈیسک) تحریک انصاف کی لاڑکانہ میں دبنگ انٹری، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کرپشن مٹاؤ ملک بچاؤ مہم کے سلسلے میں قافلہ مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی کے زیر قیادت لاڑکانہ پہنچا جہاں پر کارکنوں کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقعے پر اوٹھا چوک سے باغ جناح چوک تک کرپشن کے خلاف ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں شریک کارکنان گو نواز گو کے نعرے لگا رہے تھے۔ باغ جناح چوک پر ریلی اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاے سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیاسی نابالغ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے سندھ سے جدوجہد کا آغاز کرکے غلطی کی ہے لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ سندھ اسمبلی سے پاکستان کی پہلی قرارداد منظور ہوئی، سندھ کے لوگوں نے ڈکٹیٹروں کے خلاف تحریکیں چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے بغیر وفاق نامکمل ہے، آبادی کے لحاظ سے پنجاب ملک کا بڑا صوبہ ہے لیکن ہوسکتا ہے سیاسی بصیرت میں سندھ سب سے بڑا ہو اسی لیے سندھ کے لوگوں کی دہلیز پر جھولی پھلانے آیا ہوں، اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے اور آپ کے بچوں کے لیے، آئیے ملک کر نئی سوچ اور سیاسی فلسفے کے لیے جستجو کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج ضرورت ہے سیاست سے بالاتر ہوکر اپنے احتساب کرنے کی، کوئی باہر کا حاکم یا سفید چہڑی والا صاحب نہیں آئے گا، ہمیں لوگوں کو اپنی صفوں میں تلاش کرنا ہوگا۔ یہاں ٹئلنٹ اور وسائل کی کمی نہیں، صرف صحیح لیڈرشپ کا تعین کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن نے ہمارے معاشرے کو داغ دار کردیا ہے۔ پانی کی تقسیم پر ہندوستان اور پاکستان لڑ سکتے ہیں اور اندرون ملک صوبوں کے درمیان بھی رنجش بڑہ سکتی ہے، 60 سالہ میں ملکی وسائل کو بے دردی سے استعمال کرکے بے رحمانہ طور پر لوٹا گیا ہے، ہر آنکھ کھولنے والا بچہ ایک لاکھ 10 ہزار روپے کا مقروض ہے، بیرونی ملک بھیجا گیا پیسا واپس آجائے تو کوئی مقروض نہ رے۔ قوم کی لوٹی ہوئی دولت کے بارے میں پاناما پیپرز کے ذریعے دنیا بھر کو آگاہی ملی، یہ ہماری تحقیق نہیں، ملک میں ٹیکس کا ایک بڑا حصہ کچھ لوگوں کی جیب میں جاتا ہے۔ اس موقعے پر حلیم عادل شیخ، عارف علوی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ ڈسٹرکٹ بار میں شاہ محمود قریشی کا استقبال ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اور مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر بابو سرفراز جتوئی نے کیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…