منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

اقرار الحسن کی گرفتاری،صحافی بھی ایک دوسرے کیخلاف بول پڑے،سنگین الزام عائد کردیا

datetime 29  اپریل‬‮  2016 |

کراچی (نیوزڈیسک) سندھ اسمبلی کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے نجی ٹی وی چینل کے اینکر پرسن اقرار الحسن کی طرف سے مسلح شخص کو سندھ اسمبلی کے ایوان کے اندر لے جانے کے واقعہ کی مذمت کی ہے ۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد اسمبلی کی کوریج کرنے والے پارلیمانی صحافیوں نے اس واقعہ پر احتجاج کیا اور ’’ زرد صحافت مردہ باد ‘‘کے نعرے لگائے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی ارباب چانڈیو ، شاہد غزالی ، بچل لغاری ، شاہد جتوئی،عبدالجبار ناصر اور دیگر نے کہا کہ ایک اسٹوری بنانے کے لیے نجی ٹی وی کے اینکر پرسن نے یہ ڈراما رچایا ، جو قابل مذمت ہے ۔ اینکر پرسن کی طرف سے سندھ اسمبلی کی سکیورٹی میں کمزوریوں کو ثابت کرنے کی اسٹوری اس وقت ختم ہو گئی تھی ، جب سندھ اسمبلی کے مین گیٹ پر سکیورٹی کے عملے نے اینکر پرسن کے ساتھی کو روکا تھا ۔ اینکر پرسن نے اپنی ذمہ داری پر اس شخص کو اندر لے جانے کی بات کی ۔ صحافیوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مذکورہ اینکر پرسن نے ایک صحافی کی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھایا ۔ اسمبلی کی سکیورٹی اہلکاروں کو روزانہ آنے والے پارلیمانی رپورٹرز پر مکمل اعتماد ہے ۔ اس واقعہ کی وجہ سے مذکورہ اینکر نے اعتماد کی فضا ختم کر دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اینکر پرسن نے یہ حرکت کرکے دہشت گردوں اور تخریب کاروں کو یہ آئیڈیا دے دیا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے لیے صحافیوں کا استعمال کریں ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…