کراچی (نیوز ڈیسک)لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ کے جے آئی ٹی کے سامنے کیے گئے مزید اہم انکشافات سامنے آئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق عزیر بلو چ نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ اس کے یو اے ای ، ایران اور پاکستان میں کروڑوں روپے کے اثاثے ہیں ۔عزیر بلوچ کے دبئی میں 4 اکانٹ میں ساڑھے دس لاکھ درہم موجود ہیں۔4 میں سے 3 اکانٹ اس نے اپنی بیوی کے نام پر کھولے ہیں ۔جبکہ یو اے ای میں 3 گاڑیاں ، ایک پلاٹ ، دفتر اور دوگھر ہیں۔یواے ای میں اس کے مجموعی اثاثوں کی مالیت 35 لاکھ درہم ہے۔عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ پاکستان کے بینک میں اس کے صرف 15 لاکھ روپے موجودہیں ۔جبکہ کراچی میں 20 کروڑ کے اثاثے موجود ہیں۔گینگ وار سرغنہ نے ایران میں 1 کروڑ روپے مالیت کا گھر رشتے دارجلیل کے نام پر لیاہے ۔عزیر بلوچ کے طاقتور دوستوں میں 45 لوگ شامل ہیں جن میں سے ذولفقار مرزا، قادر پٹیل اور ثانیہ ناز قریبی دوست ہیں۔عزیر بلوچ کی خدمت پر 16 نوکر موجود تھے۔عزیر بلوچ کے انڈر لیاری کے 14 گینگ وار کمانڈر کام کرتے تھے۔عزیر بلوچ نے انکشاف کیا کہ اس نے زولفقار مرزا کی مدد سے ایک ایس پی اور 7 ایس ایچ او کو تعینات کروایا۔ایس پی اقبال بھٹی کی تعیناتی انسپکٹر یوسف بلوچ کی سفارش پر کروائی گئی ۔
عزیر بلوچ کے انکشافات، کس کی مدد سے پولیس افسروں کی تعیناتی کی جاتی تھیں؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)
-
بچوں کے ب فارم ۔۔ والدین کے لئے بڑی خبر
-
کیا پٹرول کی قیمت مزید بڑھے گی؟ وزیر خزانہ کا اہم بیان سامنے آ گیا
-
عرب ملک نے تارکین وطن کے لیے دروازے کھول دیئے
-
سکولوں کے حوالے سے نیاحکمنامہ جاری
-
عید الفطر کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو کی اہم پیش گوئی سامنے آگئی
-
ایران جنگ میں کتنے امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے؟ پینٹاگون کا بڑا اعتراف
-
کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟ فاروق ستار کا حیران کن دعویٰ
-
بجلی صارفین کے لیے نیا ضابطہ کار جاری، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
گورنر سندھ کا موٹرسائیکل سواروں کو عید تک 3 لیٹر پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان
-
بھارتی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ،نوجوان کی زندگی ختم کرنے کی اجازت دیدی
-
پاکستان میںامریکی قونصل خانہ بند کرنے کا فیصلہ، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
مریم نواز نےاہم ذمہ داری سی سی ڈی کو سونپ دی
-
موٹرویز اور قومی شاہرائوں پر گاڑیوں کی حدِ رفتار میں کمی کر دی گئی



















































