پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

کتنے پاکستانی قران کریم کی روشنی میں ملکی قوانین بنانے کی حمایت کرتے ہیں؟

datetime 28  اپریل‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 78 فیصد پاکستانی ملکی قوانین قرآن کریم کی روشنی میں بنائے جانے کی سختی سے حمایت کرتی ہے۔پیو ریسرچ سینٹر نے مسلم اکثریتی دس ممالک میں ایک سروے کیا گیا جس میں لوگوں سے ان کے ملک میں نافذ قوانین کو اسلام تعلیمات کے مطابق بنانے کے حوالے سے رائے لی گئی۔سروے میں پوچھا گیا کہ آپ کے ملک کے قوانین سختی سے قرآن کی تعلیمات کی پیروی کریں؟آپ کے ملک کے قوانین اسلام کے اصولوں کی پیروی کریں لیکن قرآن کی تعلیمات کی سختی سے پیروی نہ کریں؟ملکی قوانین میں قرآن کی تعلیمات کا اثر نہیں ہونا چاہیے؟سروے میں پاکستان، فلسطین، اردن، ملائشیا اور سینیگال میں نصف سے زائد آبادی نے ملکی قوانین کی قرآن کی روشنی میں سختی سے پیروی کی حمایت کی۔پاکستان کے 78 فیصد افراد نے سختی سے قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق کرنے کی حمایت اور 16 فیصد نے اسلامی قوانین کی حمایت تو کی مگر سختی کی مخالفت کی۔ سروے میں صرف 2 فیصد پاکستانیوں کا خیال تھا کہ ملکی قوانین قرآن کریم کی روشنی میں نہیں بنائے جانے چاہیے۔دوسری جانب برکینو فاسو، ترکی، لبنان اور انڈونیشیا میں سروے میں شامل افراد کی ایک چوتھائی یا اس سے بھی کم تعداد نے اسلامی قوانین کی حمایت کی۔مسلم اکثریتی ترکی کی صرف 13 فیصد افراد نے ملکی قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بنانے کی حمایت کی تاہم، حیرت انگیز طور پر سروے میں سعودی عرب اور ایران کو شامل نہیں کیا گیا جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اس حوالے سے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رکن اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمال نے بتایا کہ مذہب کو ممکنہ طور پر قانون سازی کرتے ہوئے دور رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس بات پر اتفاق ہے کہ مذہبی تعلیمات قانون سازی پر اثرانداز ہوں گی تو قرآن کریم کی تعلیمات اصل معنوں میں نافذ کی جائیں جن میں امن اور بھائی چارے کی بات کی گئی ہے۔ سروے میں مجموعی طور پر 10194 افراد کی رائے لی گئی جن میں مسلم اور غیر مسلم شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…