منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

کتنے پاکستانی قران کریم کی روشنی میں ملکی قوانین بنانے کی حمایت کرتے ہیں؟

datetime 28  اپریل‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 78 فیصد پاکستانی ملکی قوانین قرآن کریم کی روشنی میں بنائے جانے کی سختی سے حمایت کرتی ہے۔پیو ریسرچ سینٹر نے مسلم اکثریتی دس ممالک میں ایک سروے کیا گیا جس میں لوگوں سے ان کے ملک میں نافذ قوانین کو اسلام تعلیمات کے مطابق بنانے کے حوالے سے رائے لی گئی۔سروے میں پوچھا گیا کہ آپ کے ملک کے قوانین سختی سے قرآن کی تعلیمات کی پیروی کریں؟آپ کے ملک کے قوانین اسلام کے اصولوں کی پیروی کریں لیکن قرآن کی تعلیمات کی سختی سے پیروی نہ کریں؟ملکی قوانین میں قرآن کی تعلیمات کا اثر نہیں ہونا چاہیے؟سروے میں پاکستان، فلسطین، اردن، ملائشیا اور سینیگال میں نصف سے زائد آبادی نے ملکی قوانین کی قرآن کی روشنی میں سختی سے پیروی کی حمایت کی۔پاکستان کے 78 فیصد افراد نے سختی سے قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق کرنے کی حمایت اور 16 فیصد نے اسلامی قوانین کی حمایت تو کی مگر سختی کی مخالفت کی۔ سروے میں صرف 2 فیصد پاکستانیوں کا خیال تھا کہ ملکی قوانین قرآن کریم کی روشنی میں نہیں بنائے جانے چاہیے۔دوسری جانب برکینو فاسو، ترکی، لبنان اور انڈونیشیا میں سروے میں شامل افراد کی ایک چوتھائی یا اس سے بھی کم تعداد نے اسلامی قوانین کی حمایت کی۔مسلم اکثریتی ترکی کی صرف 13 فیصد افراد نے ملکی قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بنانے کی حمایت کی تاہم، حیرت انگیز طور پر سروے میں سعودی عرب اور ایران کو شامل نہیں کیا گیا جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اس حوالے سے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رکن اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمال نے بتایا کہ مذہب کو ممکنہ طور پر قانون سازی کرتے ہوئے دور رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس بات پر اتفاق ہے کہ مذہبی تعلیمات قانون سازی پر اثرانداز ہوں گی تو قرآن کریم کی تعلیمات اصل معنوں میں نافذ کی جائیں جن میں امن اور بھائی چارے کی بات کی گئی ہے۔ سروے میں مجموعی طور پر 10194 افراد کی رائے لی گئی جن میں مسلم اور غیر مسلم شامل ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…