منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

میں نے لندن میں فلیٹ کیسے خریدا ؟ جہانگیر ترین نے بتا دیا

datetime 28  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ حکومت پاناما لیکس سے توجہ ہٹانے کیلئے ہمارے اوپر کیچڑ اچھال رہی ہے ۔ ملک میں پاناما لیکس کا بحران چل رہا ہے۔ ن لیگ کو جہانگیر ترین یاد آ گیا ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس میں جھوٹ کی فیکٹری لگی ہوئی ہے۔ نواز شریف نے قوانین توڑے‘ وہ ایم این اے بھی نہیں بن سکتے۔ میں نے ایمانداری اور حلال کی کمائی سے لندن میں فلیٹ خریدا۔ 5 سال میں ایک ارب 88 کروڑ روپے ٹیکس دیا۔ میاں صاحب ذرا اپنا ٹیکس ریکارڈ پیش کریں۔ پی ٹی آئی ایک فیملی کی طرح ہے کبھی چھوڑ کے نہیں جاﺅں گا۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاناما لیکس سے توجہ ہٹانے کیلئے دوسروں پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔ ملک میں پاناما لیکس کا بحران آیا ہوا ہے اور ن لیگ جہانگیر ترین کے پیچھے لگی ہے۔ روز روز جھوٹ بولتے ہیں اور بے جا الزامات لگاتے ہیں۔ وزیراعظم ہاﺅس میں جھوٹ کی فیکٹری لگی ہوئی ہے۔ سنا ہے یہ فیکٹری ان کی صاحبزادی چلا رہی ہے۔ سیاسی مخالفین کے خلاف مہم میں سرکاری رقم خرچ کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس میں میڈیا سیل قائم ہے۔ میڈیا سیل سے سیاسی مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ چلایا جا رہا ہے اور جعلی دستاویزات بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ میری کوئی آف شور کمپنی نہیں ہے۔ جو کمپنیاں میری ہیں وہ سب ڈکلیئر ہیں اور اپنی ایمانداری اور حلال کی کمائی سے بنایا ہے۔ میں نے ایک ایک پیسہ حلال کی کمائی اور بینکس کے ذریعے باہر بھیجا ہے۔ میری تمام کمپنیوں کا ٹیکس ریکارڈ موجود ہے میں نے 5 سال میں ایک ارب 88 کروڑ روپے ٹیکس ادا کر دیا۔ میرے تمام اثاثے ڈکلیئر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم قوم کو بتائیں کہ لندن میں فلیٹس خریدنے کیلئے پیسے کہاں سے آئے؟ انہوں نے باہر پیسے کس طرح بھیجے؟ یہ انکشاف ہوا ہے کہ جب بچوں کی پراپرٹی لی گئی تو ان کی عمریں کم تھیں۔ میاں صاحب ہی بتائیں آپ کی کمائی حلال کی تھی یا نہیں؟ کیا آپ نے اپنے اثاثے ظاہر کئے؟ نہیں کئے تو ٹیکس بچایا منی لانڈرنگ کی ہے۔ وزیراعظم کے پاس ریکارڈ نہیں تو آپ پبلک آفس نہیں رکھ سکتے اور نا اہل ہو سکتے ہیں۔ میاں صاحب ایک ہفتے کے اندر اپنے ٹیکس ریکارڈ قوم کے سامنے لائیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…