منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

لیہ میں زہریلی مٹھائی سے مزید 2 افراد جاں بحق ٗحلوائی نے غلطی سے زہر ملانے کا اعتراف کرلیا

datetime 25  اپریل‬‮  2016 |

لیہ(نیوز ڈیسک) کروڑ لعل عیسن میں زہریلی مٹھائی کھانے سے مزید 2 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ حلوائی نے دودھ میں غلطی سے ٹاٹری کی جگہ زہر کی پڑیا ڈال دینے کا اعتراف کرلیا ہے۔گزشتہ ہفتے لیہ کے نواحی علاقے کروڑ لعل عیسن میں شاہد نامی شخص نے بیٹے کی پیدائش پر اپنے قریبی رشتے داروں کو دعوت پر مدعو کیا تھا اور شاہد مبارکباد دینے آنے والوں کا منہ میٹھا کروارہا تھا، لڈو کھانے کے بعد 70 سے زائد افراد کی حالت غیر ہوگئی جنہیں لیہ، ملتان اور فیصل آباد کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں اب تک 25 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں ٗ 30 سے زائد اب بھی زیر علاج ہیں، مزید جاں بحق ہونے والوں میں 4 سالہ عبداللہ اور4 بچوں کا باپ غلام غازی شامل ہیں۔جاں بحق افراد کے خون کے تجزیئے سے ڈاکٹروں کو پتہ چلا ہے کہ ان لوگوں کی اموات سیلفو لائل نامی کیمیکل سے ہوئی ہے جو زرعی زمین میں خود رو پودوں کو تلف کرنے کے لیئے استعمال ہوتا ہے، اس کیمیکل پر ملک میں پابندی عائد ہے تاہم اس کے باوجود یہ ادویہ کی دکانوں پر کھلے عام دستیاب ہوتی ہے۔ ڈاکٹروں کے پاس اس زہر کے خلاف کوئی موثر دوا نہیں ہے جس کی وجہ سے علاج معالجے کے باوجود زہر خورانی کا شکار لوگوں کی حالت نہیں سنبھل رہی، یہ صورت حال دیکھتے ہوئے 12 سے زائد مریضوں کو ان کے لواحقین علاج ادھورا چھوڑ کر اپنے گھر واپس لے گئے ہیں ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی عائشہ ممتاز نے دکانوں اور ہسپتالوں میں چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں۔دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ جس دکان سے مٹھائی خریدی گئی تھی اس کا مالک طارق ، بھائی خالد اور شاگرد حامد 3 روز سے حراست میں ہیں ٗ طارق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کی دکان کے برابر میں واقع زرعی ادویات کی دکان کی مرمت کی جارہی تھی جس کی وجہ سے زرعی ادویات کی بڑی مقدار اس کی دکان میں رکھی گئی تھی، اسی دوران حامد نے دودھ کو پھاڑنے سے ٹارٹی کی جگہ سیلفولائن زہر کی پڑیا دودھ میں ڈال دی تھی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…