منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم اور ان کا خاندان تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش ہو کر خود پہل کریں، اسفندیار ولی خان

datetime 23  اپریل‬‮  2016 |

پشاور (نیوز ڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ بیرون ملک سے پانامہ لیک کے انکشافات و الزامات کی تحقیقات کیلئے اے این پی ہی نے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کا مطالبہ سب سے پہلے کیا تھا وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا خود کو خاندان سمیت احتساب کیلئے پیش کرنے کا اعلان خوش آئند ہے۔ کسی بھی پاکستانی کی بیرونی ملک جائیداد، کاروبار، خفیہ اکاؤنٹس اور آف شور کمپنیوں کے بارے میں بھی کمیشن کا دائرہ کار وسیع کرکے تحقیقات سے قوم کو سچائی سے آگاہ کیا جائے۔ بیان میں اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی طرف سے کمیشن کے قیام کے خط لکھنے کے بعد اگر کسی کے پاس ٹھوس شواہد اور ثبوت موجود ہیں تو کمیشن کے سامنے پیش کئے جائیں۔ تحقیقات مکمل ہونے تک وزیراعظم سے استعفیٰ طلب کرنا غیر آئینی ہے۔ مخالفت برائے مخالفت اور جواب الجواب کے ذریعے غیر جمہوری رویے کے تاثر کو زائل کرنے کے لئے شواہد پیش کرنے پر توجہ دی جائے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جس طرح کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے کمیشن کے قیام کے ساتھ ہی میاں نواز شریف خود پیش ہونے میں پہل کریں اور خاندان کو بھی پیش کرنے کی اچھی مثال قائم کی جائے۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی اپنی سیاسی تاریخ اور جمہوری روایت کو قائم رکھتے ہوئے نظریاتی و سیاسی مخالفت کے باوجود وزیر اعظم میاں نواز شریف کے جوڈیشل کمیشن کے قیام کو سراہتی ہے اگر الزامات ثابت ہوگئے تو وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ ہی اے این پی کرے گی۔ اسفند یار ولی نے کہا کہ کہ بدعنوانی اور امانت میں خیانت قوم کے ناقابل معافی جرائیم ہیں۔ احتساب سب کیلئے یکساء کے ون پوائنٹ ایجنڈے کے تحت مجوزہ کمیشن کے ذریعے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی قائم کرنے کی روایت ڈالنی ہوگی۔ کوئی شخصیت اور ادارہ آئین اور قانون سے بالا تر نہیں۔ ضیاء الحق دور میں افغان جہاد میں آنے والے ڈالروں ، بیرون ملک بنائی جانے والی جائیدادوں، مشرف دور میں ہڑپ کی جانے والی اربوں ڈالر رقوم ، مالی بندر بانٹ کرنے والی شخصیات ، پارٹیوں ، گروپوں ، گروہوں کے کاروبار ، جائیدادوں اور اکاؤنٹس کا بھی پتہ چلانے کی ضرورت ہے۔ اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ سرکاری چھتری میں سیاست میں لائے گئے سائیکل برداروں کے صنعت کار بننے ، قومی بنکوں سے اربوں روپے معاف کرنے والوں، سرکاری اداروں سے منتخب حکومتیں گرانے کے لئے فنڈ ز فراہم کرنے کا اعتراف کرنے والوں اور جمہوری حکومتوں کے خلاف پچھلے دس سالوں میں تحریکوں ، دھرنوں ، جلاؤ گھیراؤ کے اخراجات کی فرانزک تحقیقات ہونی چاہیے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…