پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

مشرف کی آف شور کمپنی اورآف شور اکاﺅنٹس ،ایسی پیشکش کردی گئی جس کاکوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا

datetime 23  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)آف شور کمپنی اورآف شور اکاؤنٹس ،پرویزمشرف نے ایسی پیشکش کردی جس کاکوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا، آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ جنرل(ر)پرویز مشرف کی باہر کے کسی ملک میں نہ تو کوئی آف شور کمپنی ہے اور نہ ہی آف شور اکاؤنٹس ہیں۔اگر کسی کو ایسی چیز ملے تو وہ ہم اس کے نام کروادیں گے،آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد نے کہا ہے کہ اے پی ایم ایل کے سربراہ اور سابق صدر مملکت جنرل(ر)پرویز مشرف کا2009تک بیرون ملک نہ تو کوئی بینک اکاؤنٹ تھا اور نہ ہی جائیدادتھی۔2009میں جب پرویز مشرف لندن گئے تو وہاں اپنے ایک دوست کے ہاں قیام کیا۔بعدازاں ان کے مشرق وسطیٰ میں موجود دوستوں نے ان کی مالی معاونت کی جس سے انہوں نے لندن اور دوبئی میں فلیٹ خریدا۔جنرل(ر)پرویز مشرف کی باہر کے کسی ملک میں نہ تو کوئی آف شور کمپنی ہے اور نہ ہی آف شور اکاؤنٹس ہیں۔اگر کسی کو ایسی چیز ملے تو وہ ہم اس کے نام کروادیں گے۔اخبارات میں جو بیرون ملک بینک اکاؤنٹس ان کے نام سے منسوب کئے گئے ہیں وہ بے بنیاد ہیں اوران سے جنرل(ر)پرویز مشرف کا کوئی تعلق نہیں ہے۔جنرل(ر)پرویز مشرف اپنے خلاف من گھڑت الزامات لگانے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو اخبارات میں اے پی ایم ایل کے سربراہ جنرل(ر)پرویز مشرف کے خلاف شائع ہوئیں جس پر پارٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد نے جنرل(ر)پرویز مشرف سے رابطہ کر کیا۔بعدازاں میڈیا کے لئے جاری کردہ اپنے بیان میں انہوں نے شائع ہونے والی خبروں میں پرویز مشرف پر لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کی۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگ ذاتی عناد کی بنیاد پر جنرل(ر)پرویز مشرف کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔پرویز مشرف ایک محب وطن پاکستانی ہیں اور انہوں نے تمام عمر ملک و قوم کی خدمت کی ہے۔ایسے شخص کے ساتھ جھوٹ منسوب کرنا افسوسناک ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…