لیہ(نیوزڈیسک)لیہ میں بچے کی پیدائش پر زہریلی مٹھائی کھانے والے مزید 9 افراد نشتر ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے جس سے جاں بحق افراد کی تعداد22 ہو گئی۔لیہ کی تحصیل کہروڑ لعل عیسن میں بچے کی پیدائش پرزہریلی مٹھائی تقسیم کی گئی جس کو کھاتے ہی پہلے روز 10 افراد موت کے منہ میں چلے گئے جبکہ دوسرے روز بھی تین سالہ ارم ، حسیب اور عرفان نشتر ہسپتال میں دم توڑ گئے تھے تاہم ہفتہ کو مزید 9 افراد جن میں سکندر، بلال، عدنان اور خاتون گل، دو بچے اور پانچ بڑے افراد شامل ہیں ، جان کی بازی ہار گئے ،جس سے جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہو گئی ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ 19 اور 8 نمبر وراڈ میں دومریض تاحال زیر علاج ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے جس سے جاں بحق افراد کی تعداد مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔دوسری جانب مرنے والے افراد کی تدفین کےلئے انتظامات کئے جارہے ہیں اور علاقے میں ابھی سوگ کا عالم ہے اور گھروں میں کہرام مچاہوا ہے ۔پولیس نے دکاندار سمیت تین ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے ، دکان میں زہریلی ادویات بھی موجود پائی گئی ہے اور ابتدائی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مٹھائی میں سلفو یوریا نامی کیمیکل پایا گیا ہے۔
بچے کی پیدائش پر 22ہلاکتیں، وجہ کیا بنی ؟ تہلکہ خیز انکشاف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
8سالہ پاکستانی نژاد بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا نشاندہی پر شکریہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ،پاورڈویژن نے ایڈوائزری جاری...
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
ٹرمپ نے بیٹے کی شادی میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے وفد کے ناموں کا اعلان کر دیا
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ نئی قیمت جاری
-
بلاول بھٹو کا خود گاڑی چلاتے ہوئے ای چالان ہو گیا
-
خواتین پنک اسکوٹی شوہر یا بھائی کو چلانے نہ دیں، حکومت نے خبردار کردیا



















































