منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پانامہ لیکس کمیشن سے کچھ نہیں نکلے گا، قوم کوٹرک کی بتی کے پیچھے لگا یا گیا ہے، بڑا دعویٰ آ گیا

datetime 23  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک )پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادر ی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پانامہ لیکس کے انکشافات ثابت شدہ ہیں ، مزید کسی تحقیق کی ضرورت نہیں،کمیشن سے کچھ نہیں نکلے گا ،قوم کو ایک بار پھر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ، وزیر اعظم نے قوم سے خطاب نہیں مذاق کیا،وزیر اعظم کا دھمکی آمیز لب و لہجہ لندن علاج کا نتیجہ ہے، وزیر اعظم نے سیاسی مخالفین یا میڈیا کو نہیں ”کسی اور“ کو دھمکیاں دیں ۔ کرپٹ وزیر اعظم دھمکیاں دینے کی بجائے لوٹی گئی دولت واپس لائیں اوردیگر وزرائے اعظم کی طرح استعفیٰ دےں ۔ انہوں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ جرم ثابت ہونے پر گھر جانے کا بیان انکے چھوٹے بھائی اور سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے قاتل اعلیٰ نے بھی دیا تھا اور پھر جب جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نے انہیں ذمہ دار ٹھہرایا تو انہوں نے گھر جانے کا وعدہ پورا کرنے کی بجائے رپورٹ ہی غائب کر دی ۔سربراہ عوامی تحریک نے میڈیا کو دھمکیاں دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہاکہ میڈیا حقائق دکھا رہا ہے چونکہ کرپٹ حکمرانوں کے پاس قوم کے سوالات کا جواب نہیں ہے اس لئے وہ اپنی روایات اور مزاج کے مطابق دھمکیوں پر اتر آئے ، آمریت کی پیداوار 30سال بعد بھی جمہوری مزاج پیدا نہ کر سکے ،انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ مگر اثاثے لندن اور پانامہ میں ہیں ، جدی پشتی صنعتکار خاندان کا چشم و چراغ بتائے وہ خود کتنا ٹیکس دیتا رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جس جلا وطنی کی بات کرتے ہیں وہ دس سال کی ڈیل تھی جو وہ خوشی خوشی کر کے جدہ کے سرور محل میں گئے اور ڈیل کے کاغذات پر باقاعدہ دستخط کئے قوم کا حافظہ اتنا کمزور نہیں کہ وہ انکے سیاسی ،معاشی جرائم کو بھول جائیں،انہوں نے کہاکہ وزیر خزانہ اور انکے سمدھی تحریری بیان دے چکے ہیں کہ انہوں نے شریف خاندان کی دولت منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کی اور کونسے ثبوت چاہئیں؟انہوں نے کہا کہ قوم کے نرم روےے کی وجہ سے کرپٹ وزیر اعظم کو دھمکیاں دینے کا موقع ملا۔ وزیر اعظم کا رویہ اور بوکھلاہٹ انکے ذہنی انتشار کی غماز ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…