منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

بلے باز ہوجائیں تیار !!اب بچنا مشکل ،کرکٹ میں نئی ٹیکنالوجی متعارف

datetime 22  اپریل‬‮  2016 |

دبئی (نیو زڈیسک)کرکٹ میں امپائرز کی آسانی اور بلے سے نکلنے والے ایج کو پکڑنے کےلئے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بال ٹریکنگ ٹیکنالوجی ہاک آئی کے موجد پال ہاکنز نے آسٹریلین پانچ سینٹ کے سکے کے حجم کے برابر بیٹ سینسر تیار کیا جس میں اسمارٹ فون ایپ ہے جو بلے سے لگنے والے ہلکے سے ہلکے ایج کو بھی بتا سکے گی۔میدان میں کھڑے ہونے والے دونوں امپائر ہر گیند کو ریکارڈ کرنے کےلئے اپنے اسمارٹ فون جیکٹ کے ساتھ منسلک کریں گے تاکہ ری پلے دیکھ سکیں اور انہیں اس بات میں مدد مل سکے کہ گیند کہاں پچ ہوئی تھی اور ایل بی ڈبلیو فیصلوں میں انہیں آسانی مل سکے۔اب منصوبہ یہ ہے کہ ابتدا میں اس کو انگلینڈ میں کلب سطح پر متعارف کرایا جائے گا جہاں 46 ڈالر مالیت کے اس نازک سینسر کو باآسانی بلے میں نصب کیا جا سکے گا۔ ٹیکنالوجی کے موجد اور سابق کرکٹر ہاکنز نے کہا کہ ابتدا میں یہ ٹیکنالوجی عوامی سطح پر استعمال نہیں کی جا سکے گی۔انہوں نے بتایا کہ انہیں ٹیکنالوجی کا خیال گزشتہ سال ہیمپشائر لیگ کرکٹ میچ کھیلتے ہوئے آیا جب ایک بیٹسمین کے بلے سے گیند لگ کر وکٹ کیپر کے پاس پہنچی تاہم اسے ناٹ آو¿ٹ قرار دیا گیا۔ہاکنز کا کہنا تھا کہ جس چیز نے مجھے حیران کیا وہ یہ کہ اس واقعہ کے بعد فیلڈرز نے بیٹسمین پر جملے کسنا شروع کیے تو اس نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ میرے بیٹ سے ایج لگا تھا اور تم بھی یہ بات جانتے تھے لیکن مجھے آو¿ٹ نہیں دیا گیا۔یہ بلے میں ہونے والی معمولی سے معمولی سرسراہٹ کو بھی محسوس کرےگا اور اسمارٹ فون ایپ سے منسلک ہو کر انٹرنیشنل کرکٹ میں مستعمل ریئل ٹائم اسنیکو ٹیکنالوجی کی طرح دکھائےگا۔ہاکنز نے بتایا کہ ہم نے کلب میچوں میں اس کا تجربہ کیا ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ اس سے بلے سے لگنے والی معمولی سے معمولی ایج حتیٰ کہ پر لگنے کا بھی باآسانی پتہ چل جائےگا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…