منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم نے لندن علاج کے دوران کیا کرکے واپس آئے،ڈاکٹر طاہر القادری نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 19  اپریل‬‮  2016 |

لاہور (نیوزڈیسک) پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کرپشن کے خاتمے اور بلا تفریق احتساب کے آرمی چیف کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور مدد گاروں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے ،عوام کی جان دہشتگردوں اور مال کرپٹ حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے،آپریشن ضرب عضب کی طرح کرپٹ عناصر کے خلاف ضرب غضب ناگزیر ہو گئی ، کرپٹ حکمران ایک دوسرے کے سہولت کار ہیں اور ان بڑے بڑے سہولت کاروں کی لندن میں ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور انہوں نے اپنی اپنی کرپشن کے دفاع کی حکمت عملی بھی وضع کر لی ہے ۔وہ گذشتہ روز عوامی تحریک کی کور کمیٹی کے اجلاس سے ٹیلی فونک خطاب کر رہے تھے،انہوں نے کہاکہ آف شور کمپنیاں دس دس ہاتھ آگے بک چکیں،ملکی قوانین کے تحت اب لوٹ ما ر کی دولت کو نہیں پکڑا جا سکے گا ،وزیر اعظم علاج کے نام پر یہی سب کچھ کرنے لندن گئے تھے ۔کرپشن اور اقتدار کا گٹھ جوڑ توڑنے کیلئے بین الاقوامی ایجنسیوں اور تحقیقاتی اداروں کی مدد لی جائے ۔آف شور کمپنیوں کا کھوج وہی بین الاقوامی ادارے لگا سکتے ہیں جو دس دس جگہ پر فروخت ہونے والی کمپنیوں کا سراغ لگانے کا تجربہ اور صلاحیت رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکمران دہشتگردوں کے سہولت کار ہیں اور دہشتگرد انکے سیاسی سہولت کار ہیں ،بوقت ضرورت دونوں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے وسائل کو تحفظ دیتے ہیں ،اب سہولت کاروں کے ناموں کا تعین کر کے انکے خلاف آپریشن کیا جائے جب تک قومی خزانے کے یہ لٹیرے اقتدار پر قابض رہیں گے نہ دہشتگردی ختم ہو گی اورنہ امن و ترقی کا خواب پورا ہو گا ۔وزیر اعظم نے علاج کے دوران آف شور کمپنیوں کا مرضی کے مطابق ریکارڈ مرتب کیا اور یہ کمپنیاں اب کئی کئی ہاتھ آگے بک چکی ہیں ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…