منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

سینیٹ نے واپڈا کے ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی کی سہولت ختم کرنے کیلئے قرارداد کثرت رائے سے مسترد کر دی

datetime 18  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینیٹ نے واپڈا کے ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی کی سہولت ختم کرنے کے لئے قرارداد کثرت رائے سے مسترد کر دی جبکہ وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ محمد آصف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ 2018ء ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائیگا ٗ اس وقت ملک میں صنعتوں کیلئے زیرو لوڈشیڈنگ ہے ٗ واپڈا کے 17ہزار ملازمین کو 100سے 1300یونٹ تک مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے ٗ کسی بھی علاقے میں 70فیصد سے زائد لائن لاسسز پر فیڈر کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے ٗ ملازمین کو لامحدود بجلی مفت فراہم کرنے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ پیر کو سینٹ میں اجلاس کے دوران سینیٹر سید طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ اس وقت ملک کو بجلی کی قلت کا سامنا ہے اس لئے واپڈا کے ملازمین کو مفت بجلی کی جو سہولت دی جا رہی ہے، اسے ختم کیا جائے۔ وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ محمد آصف نے قرارداد کی مخالفت کی جس کے بعد ایوان میں قرارداد پر رائے شماری کرائی گئی تو ارکان کی اکثریت نے قرارداد کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دیااس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف کہا کہ جن علاقوں میں واجبات ادا نہیں کئے جاتے یا جن فیڈرز پر واجبات کی عدم ادائیگی 70 فیصد سے زائد ہے، ان کو بند کر دیا جاتا ہے ٗ اس کے علاوہ نادہندہ علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی زیادہ ہے تاہم جو صارفین باقاعدگی سے واجبات ادا کر رہے ہیں، انہیں ریلیف بھی فراہم کیا جا رہا ہے اور لوڈ شیڈنگ صرف شیڈول کے مطابق کی جا رہی ہے، شیڈول سے ہٹ کر کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے تین سال کے دوران حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں، ان کے اثرات اگلے دو سال میں واضح طور پر سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا کے ملازمین کو جو مفت بجلی کی فراہمی دی جاتی ہے اس کا مالیاتی اثر انتہائی کم ہے، اسی طرح کی سہولت سوئی ناردرن، پی آئی اے، ریلوے اور دیگر محکمے بھی اپنے ملازمین کو دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کو لامحدود بجلی مفت فراہم کرنے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…