منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

وزیراعلی پنجاب کیخلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر ہائیکورٹ آفس کا اعتراض دور کر کے درخواست دوبارہ دائر کر دی گئی

datetime 16  اپریل‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک)لاہور ہائیکورٹ کے روبرو وزیراعلی پنجاب کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر ہائیکورٹ آفس کا اعتراض دور کر کے درخواست دوبارہ دائر کر دی گئی۔سول سوسائٹی نیٹ ورک کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ہائیکورٹ آفس کو درخواست پر اعتراض لگانے کا اختیار نہیں ۔چنانچہ درخواست سماعت کیلئے پیش کی جائے۔درخواست گزار کے وکیل نے بتایا اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کے خلاف درخواستیں زیر سماعت ہیں اور عدالت نے منصوبے کے راستے میں آنے والی گیارہ تاریخی عمارتوں پر عدالت نے حکم امتناعی بھی جاری کررکھا ہے لیکن وزیراعلی پنجاب نے زیر سماعت معاملے پر تقاریر کیں جو توہین عدالت کے مترادف ہیں۔لہٰذاوزیر اعلی شہباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔دوسری جانب لاہور کی مقامی عدالت نے وزیراعلی شہبازشریف کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سی سی پی او اور ایس ایچ او سول لائن کو 27اپریل کیلئے نوٹس جاری کر دیئے ۔ایڈیشنل سیشن جج نے سول سوسائٹی کے عبداللہ ملک کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں وزیر اعلی کے خلاف دھمکی آمیز تقاریر کے الزام میں مقدمہ درج نہ کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل اظہرصدیق نے عدالت کو بتایااورنج لائن منصوبے کیخلاف آواز اٹھانے پر وزیراعلی دھمکی آمیزتقاریر کر رہے ہیں جس پر وزیر اعلی پنجاب کے اندراج مقدمہ کے تھانہ سول لائن میں درخواست دی لیکن پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔وکیل کے مطابق پولیس درخواست پر قانونی طور پر مقدمہ درج کرنے کی پابندی ہے لیکن قانونی ذمہ داری پوری نہیں کی جا رہی۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ پولیس کو وزیر اعلی پنجاب کے خلاف دھمکی آمیز تقاریر کرنے پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…